BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: اے آر ڈی ریلی روک دی گئی

بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف اے آر ڈی کی ریلی کو روکنے کے خلاف احتجاج
اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف لاہور سے نکالے جانے والی ریلی کو پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا جس کے بعد یہ ریلی سولہ جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔

اے آر ڈی کے سکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ آئندہ ریلی تمام پابندیوں کے باوجود نکالی جائے گی۔

یہ ریلی سہ پہر تین بجے لاہور پریس کلب شملہ پہاڑی سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جانی تھی اور اے آر ڈی کے رہنماء اور بلوچ قائدین لاہور پہنچ چکے تھے لیکن صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری پریس کلب کے اردگرد تعینات تھی اور دوپہر کو ارد گرد کے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے علاقے کو پولیس نے ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

اے آر ڈی کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کی زیر صدارت نکلسن روڈ نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی رہائش گاہ پر اتحادی جماعتوں کے کارکنوں کا اجلاس ہوا پولیس نے اس عمارت کو بھی گھیرے میں لے لیا۔ پریس کلب جانے والے تمام راستے پہلے سے ہی بند تھے۔

مظاہرین
اے آر ڈی کی ریلی کو روکنے کے پولیس کی بھاری نفری موجود تھی

اجلاس کے بعد مخدوم امین فہیم نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کر دیا ہے اور بلوچستان آپریشن کے خلاف احتجاجی ریلی کو روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے بلوچستان کے عوام کو پنجاب کی طرف سے ایک غلط پیغام جائے گا اگر پنجاب کے عوام بلوچی لوگوں سے اظہار یک جہتی کرنا چاہ رہے تھے تواسے نہیں روکنا چاہیے تھا انہوں نے کہا کہ ریلی روکے جانے کے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت بلوچستان آپریشن کے حمایتی ہے۔

بلوچستان آپریشن ملکی سالمیت کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ ایسے ہی حالات پیدا ہوئے تھے جس کے نتیجےمیں ملک کے دو ٹکڑے ہوئے ان کے بقول اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ عوام نہیں زمین چاہیے جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا اور زمین اور عوام دونوں ہاتھ سے گئے۔

بلوچستان آپریشن کے خلاف اسلام آباد میں بھی ریلی نکالی گئی تھی

مخدوم امین فہیم ریلی کے مقررہ وقت سے پہلے ہی ائرپورٹ روانہ ہوگئے جہاں سے انہوں نے کراچی کے لیے فلائٹ پکڑنا تھی۔

اے آر ڈی کااجلاس دوبارہ سکریٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا نے شروع کرایا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ تین تین کی ٹولی میں جلوس نکالاجائے لیکن پولیس افسر نے انہیں بتایا کہ یہ بھی ممکن نہیں ہے جس پر نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی رہائش گاہ کے سامنے اقبال ظفر جھگڑا کی قیادت میں نعرے بازی ہوئی۔

اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ حکومتی رویہ افسوسناک ہے اور انہوں نے حکومتی رویے کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ ریلی ملتوی کی ہے لیکن سولہ جنوری کو یہ ریلی ہر صورت نکلے گی اور کسی حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کیاجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی بینظیر یا نواز شریف کا نام آتا ہے حکومت اسی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رات سے ہی اے آر ڈی کے عہدیداروں کے گھروں کے باہر پولیس کا پہرا بٹھا دیاگیا تھا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار تھا کہ لاہور پریس کلب کو بھی سیل کیاگیا ہے۔

قائدین اور کارکن نکلسن روڈ سے ہی منتشر ہوگئے کسی جگہ لاٹھی چارج پولیس سے براہ راست تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔

اس موقع پر بلوچ رہنماء عبدالرؤف ساسولی،امان اللہ کنرانی، پیپلز پارٹی کے جہانگیر بد ر،قاسم ضیاء، مسلم لیگ (ن) کے زعیم قادری ،مجتبیٰ شجاع ،اے آر ڈی کے منظور گیلانی،جاوید مائیکل ، جوزف فرانسس ،بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں
فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی
31 October, 2005 | پاکستان
مشرف کے خلاف اتحاد میں پھوٹ
12 January, 2005 | پاکستان
مشرف کے خلاف اے آر ڈی اجلاس
10 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد