وزیرستان: حکومت دشمن حملے بڑھ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی مختلف چوکیوں پر راکٹوں اور دستی بموں سے حملوں میں ایک فوجی ہلاک جبکہ ایک مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا۔ میرعلی میں بجلی کے تاروں کو نشانہ بنانے سے علاقے کی بجلی اٹھارہ گھنٹے تک بند رہی۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران نامعلوم افراد نے کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ماندتا کے علاقے میں نیم فوجی ملیشیا کا ایک سپاہی مقامی طور پر تیار کی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔ بعد میں علاقے کی تلاشی کے دوران مشتبہ حملہ آوروں سے گولیوں کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک اور مشتبہ عسکریت پسند گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر مشرق میں میرعلی بازار چوک میں کل رات نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی ایک چوکی کو چار آرپی جی گولوں سے نشانہ بنایا۔ تاہم اس سے حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک گولے کے بجلی کی تاروں کو لگنے سے علاقے کی بجلی اٹھارہ گھٹنوں تک معطل رہی۔ ادھر گورنمٹ ہائی سکول ہرمز میں دن نو بجے نامعلوم افراد نے سکاوٹس چوکی پر دستی بم پھینکا جس سے ایک مزدور زخمی ہوا ہے۔ سنیچر کو حکومت کی جانب سے القاعدہ کے ایک رکن ابو حمزہ رابعہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’وزیرستان میں آپریشن بند کریں‘10 October, 2005 | پاکستان شمالی وزیرستان میں جھڑپیں29 July, 2005 | پاکستان وزیرستان میں بڑا فوجی آپریشن17 July, 2005 | پاکستان وزیرستان سے پناہ گزینوں کا انخلاء08 June, 2005 | پاکستان جنوبی وزیرستان القاعدہ سے پاک28 May, 2005 | پاکستان جنوبی وزیرستان دھماکہ 6 ہلاک25 May, 2005 | پاکستان شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن15 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||