اسرائیل سے پہلا رابطہ ضیا دور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری نیاز اے نائیک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان پہلی مرتبہ بار سفارتی رابطہ ضیاء الحق کے دور میں انیس سو چوراسی میں ہوا تھا۔ جمعہ کے روز جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی ایک تنظیم ’سیفما‘ کے زیر اہتمام پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کے بارے میں منعقد کردہ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے اعلیٰ سطحی رابطہ اس وقت ہوا تھا جب پاکستان کی بری فوج کے نائب سربراہ جنرل کے ایم عارف نے جنیوا میں اسرائیلی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ اس کانفرنس سے پاکستان کے تین سابق خارجہ سیکریٹریوں نے بھی خطاب کیا۔ جن میں ریاض کھوکھر اور تنویر احمد خان بھی شامل تھے۔ نیاز اے نائیک نے بتایا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان در پردہ رابطے دو دہائیوں سے جاری تھے۔ جو ان کے بقول خفیہ رابطے نہیں ۔ انہوں نے ایک اور انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ دولت مشترکہ کی جانب سے جنوبی افریقہ میں انتخابات کے موقع پر بطور مبصر گئے تھے تو ان کی اسرائیل کے جوہری ماہرین سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے پاکستان کو تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔ لیکن ان کے مطابق بعد میں معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ انہوں نے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر دس پندرہ برس پہلے دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہونے کے اقدامات کیے جاتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ نیاز اے نائیک کے مطابق اگر پہلے تعلقات ہوتے تو یہودی لابی امریکی اور کچھ مغربی میڈیا پر جس طرح چھائی ہوئی ہے اور ان کے بقول پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہے، اس طرح نہیں کرتی۔ انہوں نے پاکستان اور اسرائیل میں پائی جانے والی مماثلت کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں جوہری طاقت رکھتے ہیں اور دونوں مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔ سابق سیکریٹری خارجہ نے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی کئی طریقے موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک جتنی حمایت اور مدد پاکستان نے فلسطین کی ہے اتنی یاسر عرفات نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی نہیں کی۔ اس موقع پر ریاض کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے عرب دنیا کے ممالک اور فلسطین کے عوام خوش نہیں ہیں۔ ایک اور سابق سیکریٹری خارجہ تنویر احمد خان نے پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسرائیل کو بات چیت میں مصروف رکھ کر مسئلہ فلسطین حل کرالے گا تو یہ تاثر درست نہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ فلسطین حل کرانے میں پاکستان سے زیادہ طاقتور ملک کوشش کرتے رہے ہیں لیکن معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ اسرائیل پر دباؤ کم کیا جائے اور ان کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ کی ملاقات سے غیر عرب ممالک کے لئے اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ’فلڈ گیٹ‘ کھل گیا ہے۔ تنویر احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مصری مفاد کے خلاف سوئیز نہر کے بارے میں پاکستان کے موقف اختیار کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اس کے بعد کئی دہائیاں غلط فہمیاں دور کرنے میں لگی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||