’پولیس اقبالی بیان چاہتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغاوت کے الزام میں پاکستان کےاردو روزنامے کےگرفتار صحافی محمد عابدنے کہا ہے کہ پولیس تشدد کرکے ان سے اقبالی بیان حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر یہ دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے کہ وہ اس بےگناہ صحافی کارکن کا نام بھی لیں جو کوئی ڈیڑھ مہینے پہلے ہی ایک اخبار چھوڑ کر دوسرے اخبار میں ملازمت اختیار چکے ہیں۔ یہ بات گرفتار صحافی نے سپرنٹنڈنٹ پولیس(شعبہ تفتیش) قیوم رشید کے دفتر میں ان کی موجودگی میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس مقدمہ کی تفتیش اب ایس پی قیوم رشید کر رہے ہیں۔ محمد عابد نے کہا کہ ایک پولیس انسپکٹر نے ان پر تشدد کیا اس دوران ایک روز دار گھونسہ ان کے سینے پر لگا جس سے ان کی حالت خراب ہوگئی تھی اور پولیس نے ان کا مقامی ہسپتال سے علاج کرایا۔ محمد عابد نے کہا کہ انہیں دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر انہوں یہ جھوٹااعتراف نہیں کیا کہ کمپیوٹر آپریٹر (کمپوزر) اظہار اعوان نے خبر میں ترمیم ان کے کہنے پر کی ہے تو انہیں یعنی محمد عابد کو پولیس مقابلے میں ہلاک بھی کیاجاسکتا ہے اور ان کی اہل خانہ سے بدسلوکی کی جائےگی۔ محمد عابد تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر ہیں جب انہیں ایس پی کے دفتر میں پیش کیاگیا تو ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی تھی شیو بڑھی ہوئی تھی اور چہرہ زرد تھا۔ وہ صحافیوں کو دیکھ کر رونے لگے ایس پی نےانہیں کرسی پر بیٹھنے کو کہا ان کی ہتھکڑی کھلوا کر انہیں چاۓ پیش کی گئی لیکن وہ اسے پی نہ سکے۔ محمد عابد سےان کی اہلیہ کی بات بھی کروائی گئی۔ ایس پی نے محمد عابد سے پوچھا کہ کل انہوں نے ان کے روبرو اس بات کااعتراف جرم بھی کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ پولیس نے کوئی تشدد نہیں کیا۔
جس پر محمد عابد نے جواب دیا کہ پہلی بار جب وہ ان کے روبرو پیش ہوئے محمد عابد نے بتایا کہ پولیس نے انہیں ان کی بیوی اور بچوں کی تصویریں بھی دکھائی ہیں۔ ایس پی نے محمد عابد سے پوچھا کہ کیا تفییش ان کے پاس آنے کے بعد کسی نے انہیں انگلی بھی لگائی ہے۔ جس کے جواب میں محمد عابد نے جواب دیا کہ وہاں انہیں کسی نے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔ پولیس کی بدسلوکی کے بارے میں محمد عابد کے اہل خانہ کےالزمات پر ایس پی نے کہاکہ جب کسی ملزم کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کے اہل خانہ اکثر اس قسم کے الزمات عائد کرتے ہیں۔ دوسرے ملزم بارہ روز سے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ اظہار اعوان نےاعتراف جرم بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے خبر کے متن میں ترمیم محمد عابد کے کہنے پر کی تھی۔ ان کےبقول محمد عابد کو پٹرول کی قیمت بڑھا ئے پر صدر پرویز مشرف سے شکوہ تھا اور اس پر احتجاج کے طور پر انہوں نے انہیں اس نازیبا لفظ کے اضافے کے لیے کہا تھا۔ اظہار اعوان اس بات کاجواب نہیں دے سکے کہ اگر محمد عابد کا شکوہ صدرمشرف سے تھا تو پھر محکمہ تعلیم کی خبر میں دوحروف پر مبنی
محمد عابد نےان الزمات کی تردید کی ہے۔ روزنامہ خبریں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف اظہار اعوان کو پولیس کے حوالے کیا تھا جبکہ سب ایڈیٹر محمد عابد کو پولیس نے اپنی تفتیش کے دوران خود گرفتار کیا ہے ان کی گرفتاری یا پولیس کے رویے سے خبریں کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ سب ایڈیٹر محمد عابد اور کمپیوٹر آپریٹر اظہار اعوان کوپولیس نے بغاوت کے ایک مقدمے میں گرفتار کر رکھا ہے۔ بغاوت کا یہ مقدمہ اس لیے درج ہوا تھا کہ پاکستان کے ایک اردو روزنامہ کی خبروں کے متن میں جنرل مشرف اور ایک رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص کے ناموں کے ساتھ ایک نازیبا لفظ کااضافہ کیاگیاتھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||