’شدت پسندوں سے تعلق نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک اردو روزنامے کے جن دو کارکنوں کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا کسی شدت پسند اسلامی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دونوں افراد کو ان خبروں کی اشاعت کے بعد حراست میں لیا گیا جن میں صدر مشرف اور ایک رکن اسمبلی کے ناموں کے ساتھ ایک نازیبا لفظ استعمال کیا گیا۔ اخبار میں نازیبا لفظ شائع ہونے کے معاملے کی تفتیش پولیس افسران کا ایک تین رکنی پینل کر رہا ہے اس پینل میں ایک اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اورایک پولیس انسپکٹر شامل ہیں۔ پینل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ یہ جذباتی نوجوان ہیں اور صدر مشرف کی پالیسیوں سے ناخوش تھے تاہم تفتیشی پینل میں شامل انسپکٹر آفتاب احمد نے کہا کہ گرفتار شدگان کا القاعدہ یا کسی شدت پسند اسلامی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ روزنامہ خبریں میں یکم ستمبر کے شمارے میں ایک قابل اعتراض لفظ کے تین مقامات پر شائع ہونے کےبعد اخبار کی انتظامیہ نے اپنے ایک کارکن اظہار اعوان کو پولیس کے حوالے کیا تھا پولیس نے بعد میں اسی ادارے کے ایک سب ایڈیٹر محمد عابدکو بھی حراست میں لے لیا ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا جس کی سزا عمر قید تک ہوسکتی ہے۔ پولیس انسپکٹر سید آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ سب ایڈیٹر محمد عابد تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر ہیں جبکہ اظہار اعوان کا چودہ روز کا جسمانی ریمانڈ دو دن پورا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے مزید ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی کیونکہ اس کمپیوٹر ڈسک کو برآمد کرنا ابھی باقی ہے جس میں وہ خبر یں محفوظ ہیں جس کے متن میں ترمیم کی گئی۔ گرفتارسب ایڈیٹر کی اہلیہ کرن عابد نے پولیس کی بدسلوکی کی شکائت کی ہے اور کہا ہے پولیس نے انہیں ناجائز حراست میں رکھا جس کی وجہ سے ان کے شوہر کی ضمانت منسوخ ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||