ترکی، آزادی صحافت اور خواتین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(احمت گورمیز کی عمر تئیس سال ہے۔ وہ انقرہ یورنیورسٹی کے روزنامے گورونم میں کام کرتے ہیں۔) ترکی میں صحافیوں کو کافی آزادی حاصل ہے۔ ترک صحافیوں کےمسائل دوسرے ممالک میں صحافیوں کو درپیش مسائل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ترکی میں سب سے بڑا مسئلہ ذرائع ابلاغ پر چند بڑے گروپس کی اجارہ داری ہے۔ ترکی میں تین یا چار ذرائع ابلاغ کے گروپس ملک کے نوے فیصد پریس کے مالک ہیں۔ یہی صورتحال باعث نزع ہے کیونکہ اتنے بڑے میڈیا کے لئے کام کرنے والے صحافی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہو سکتے۔ اس منظرنامے کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ کبھی کبھار ان گروپس کے مالکان ذرائع ابلاغ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی ایک سیکولر ملک ہے جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ ترکی کے زیادہ تر لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں ، کا خیال یہ ہے کہ مذہب لوگوں کا ذاتی فعل ہے اور ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے ہم مذہب کو ریاست سے علیحدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوجوان ترکوں کا اپنی گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈز کے ساتھ باہر گھومنا پھرنا ایک معمول کی بات ہے۔ بلاشبہ چھوٹے قصبوں اور گاؤں میں لوگ ابھی تک روایت پرست ہیں۔ لیکن بڑے شہروں میں نوجوان ترک ویک اینڈ پر سینما اور کنسرٹ میں جاتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں۔ ترکی دنیا کے ان اولین ممالک میں سے ایک تھا جہاں خواتین کو سیاسی حقوق دیئے گئے۔ آج خواتین کے حقوق کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔ تاریخی طور پر خواتین کو ترکی میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس کی ایک مثال شہر ’انطولیہ‘ کا لفظی مطلب ’ماؤں سے بھرا ہوا‘ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||