| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی صحافت کا مستقبل کیا ؟
ہٹن رپورٹ کے نتیجے میں بی بی سی کے چیرمین گیون ڈیویس اور اس کے متظم اعلیٰ گریگ ڈائک مستعفی ہو گئے۔ لیکن اس معاملے کے پرانے ہو جانے کے بعد بی بی سی کی صحافت کا مستقبل کیا ہوگا؟ برطانیہ میں ایوان زیریں یعنی ہاؤس آف کامنز میں ثقافت، ذرائع ابلاغ اور کھیلوں کی کمیٹی کے سربراہ اور کنزرویٹو پارٹی کے رکن مائکل فیبریکانٹ نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بی بی سی کے رپورٹر لارڈ ہٹن کی انکوائری رپورٹ کے ڈرامائی اثرات دیکھ کر دباؤ میں آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بی بی سی کے اندر ایک خوف کی فضا ہوسکتی ہےاور اگر صحافی اپنے آپ کو دباؤ کے اندر محسوس کرنا شروع کر دیں گے تو اس نہ صرف بی بی سی کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ پورے ملک میں آزادی اظہار متاثر ہوگی‘۔ نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری جیریمی ڈیر کے مطابق اس بات کا اِمکان تھا کہ بی بی سی تحقیقاتی رپورٹنگ سے بچنا شروع کر دے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بی بی سی اور اینڈریو گلیگن کو جس مخالفت کا سامنا پڑا اس کی روشنی میں ہو سکتا ہے کہ صحافی کمزور پڑجائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں یہ آزادی صحافت کے لئے انتہائی حساس باتیں ثابت ہو سکتی ہیں‘۔ آئی ٹی این کے سابق ایڈیٹر ان چیف سٹیورٹ پروس نے بی بی سی نیوز ٹونٹی فور کو بتایا کہ ہٹن رپورٹ کی اشاعت کے بعد تمام صحافی محتاط ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ بی بی سی کہ ادارے میں خبروں کے شعبے کے منتظم کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ سٹیورٹ پروس کا کہنا تھا کہ اتنے حساس شعبے کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اپنے سینیر لوگوں کی حمایت حاصل ہو کیونکہ دوسری صورت میں بی بی سی صحافت خطرے میں ہوگی جو کہ وہ نہیں چاہتے۔ اخبار نیو سٹیٹمین کے سیاسی امور کے ایڈیٹر جان کمفر کاکہنا تھا کہ نئے قوانین اور ضوابط سے صحافیوں کو فائدہ ہوگا نہ کہ نقصان۔ بی بی سی کے ایک سابق رپورٹر مارٹن بیل کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی تشویش ہے کہ کہیں بی بی سی جلد بازی میں غلطی نہ کر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی صحافتی معیار تعین کرتی ہے اور یہ ایسا وقت نہیں ہے کے وہ نرم پڑ جائے اور موجودہ ماحول میں ایساکرنے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔ جریدے فنانشل ٹائمز کے ایڈیٹر جا ن لائڈ نے کہا کہ بی بی سی کو سخت سبق ملا کہ اس کی ایک کہانی غلط ثابت ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام لگانے کے لئے ایک ذریعے سے خبر حاصل کر نا کافی نہیں ہوتا اور اس کے لئے آدھ درجن تک ذرائع سے تصدیق ہونی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||