BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 June, 2004, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آذربائیجان: تاریخ اور صحافت

زمین کی جنگ: آذری اور آرمینیائی لوگوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے
زمین کی جنگ: آذری اور آرمینیائی لوگوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے
باکو میں میرے قیام کا تیسرا دن تھا اور صحافیوں کی ورکشاپ کا دوسرا دن جو میں برطانیہ کی غیرسرکاری تنظیم میڈیا ڈائیورسٹی کے لئے کرنے آئی تھی۔اس کا مقصد آذربائیجان کے صحافیوں کی توجہ ملک کی مختلف اقلیتوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے زیادہ حساس اور ذمہ دار رویہ اختیار کرنے کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نگورنو کاراباخ کے تنازعے کی وجہ سے آذربائیجان میں ہمسایہ ملک آرمینیا اور آرمینیائی برادری کے لئے انتہائی غم وغصہ پایا جاتا ہے جس کے اظہار میں ذرائع ابلاغ بھی کسی تکلف سے کام نہیں لیتے۔

چنانچہ ورکشاپ کی تقریباً ہر مشق اور مباحثے کا موضوع مختلف اقلیتوں اور طبقوں کے بارے میں رپورٹنگ کے زاویوں، طریقوں، اور زبان کے بارے میں غور و خوض کرنا تھا۔

یہ اندازہ تو ہمیں پہلے ہی تھا کہ نگورنو کاراباخ اور آرمینیا کا ذکر براہ راست کرنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ زخم ابھی خاصا تازہ ہے۔انیس سو نوے میں آرمینیا نے آذربائیجان کے مغربی علاقے نگورنو کاراباخ کی آرمینیائی برادری کی حمایت میں حملہ کر کے نہ صرف نگورنو کاراباخ بلکہ آس پاس کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا جس سے ملک کا تقریباً بیس فی صد علاقہ آذربائیجان کے ہاتھ سے نکل گیا اور لاکھوں لوگ پناہ گزین ہوگئے۔ چنانچہ ہم نے اپنے پروگرام میں اب تک نگورنو کاراباخ اور آرمینیا کا کہیں ذکر نہیں آنے دیا تھا بلکہ پہلے دو دن کے پروگرام نسلی اقلیتوں کے موضوع سے دور ہی رہے۔

صحافت کے اصول؟
 شام کو جب ہم دن کی کاروائی کا جائزہ لینے بیٹھے تو ہم سوچ رہے تھے کہ جو زخم اتنا گہرا ہے کہ لگتا ہے کہ اب بھی اس سے خون رس رہا ہے اسے بھول کر غیر جانبدارانہ صحافت کے اصولوں کو اپنانے کا سبق کیا حقیقت پسندانہ ہے؟

عورتوں کے حقوق پر کھل کر مباحثہ ہوا اور مردوں اور خاص طور پر مرد صحافیوں کے رویے کو بھی خوب لتاڑا گیا۔ بچوں کے بارے میں غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ والا سیشن نہایت کامیاب رہا۔ پناہ گزینوں کے موضوع پر مشقیں ہوئیں تو نگورنو کاراباخ میں الجھنے سے بال بال بچے۔ معذور لوگوں پر رپورٹنگ کے حوالے سے بھی ہر پہلو پر کھل کر بات ہوئی اور اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ ذرائع ابلاغ میں ان کی صحیح نمائندگی نہیں ہو رہی اور صحافیوں کو اس میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔

میں اور میرے برطانوی ساتھی اپنے آپ کو دل ہی دل میں مبارکباد دے رہے تھے کہ ورکشاپ زوروں پر جا رہی ہے اور ہم اپنے آذری ساتھیوں کی توجہ ان اہم معاملات کی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور لوگوں کے رویے میں تبدیلی لانے کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔

پھر سہ پہر کی چائے کے بعد فیچر لکھنے کے مشق شروع ہوئی۔ آذری صحافیوں کو چار گروہوں میں بانٹا گیا اور ہر ایک نے مختلف موضوع چنا۔ ایک گروپ پناہ گزینوں کے مسائل اور ان کے بارے میں حکومت کی بے توجہی، دوسرا گروپ عراق میں امریکیوں کی زیادتیوں کے حوالے سے قیدیوں کو اذیتیں دینے کے موضوع پر، اور تیسرا گروپ معذور لوگوں کی مشکلات پر غور کر رہا تھا۔ چوتھے گروپ نے بچوں کو اپنایا کیونکہ تعلیمی ضروریات پر حکومت صحیح توجہ نہیں دے رہی۔

سبھی بہت اچھے موضوعات ہیں۔ آدھے گھنٹے کے بعد سوچ بچار اور پلاننگ کا وقت ختم ہوا اور مہمان ایڈیٹر کے سامنے اپنے اپنے فیچر کا خاکہ پیش کرنے کا وقت آیا۔ پہلے گروپ نے تفصیل پیش کی کہ نگورنو کاراباخ کی خونی جنگ میں آرمینیا کی ظالم اور وحشی فوج کی جانب سے نسلی تطہیر کی کاروائی کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے پناہ گزینوں کے مسائل کو اجاگر کریں گے جو اپنے گھروں کو لوٹنے کے لئے تڑپ رہے ہیں اور جن کی دیکھ بھال ہمارا فرض ہے۔

دوسرے گروپ نے بتایا کہ اذیتیں دینے کے خلاف اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر وہ ان لوگوں سے انٹرویو کریں گے جن پر آرمینیائی فوج نے اذیتیں دینے کے انتہائی بہیمانہ طریقے آزمائے اور جو ذہنی طور پر اب بھی اس تاریک دور کے زخموں سے صحتیاب نہیں ہو سکے۔ امریکہ یا عراق کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

News image

تیسرے گروپ نے معذور لوگوں کے بارے میں مضمون لکھا کہ یہ لوگ کون تھے۔ ظاہر ہے یہ وہ لوگ تھے جو آرمینیا کی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے معذور ہوئے۔ چوتھے گروپ نے بچوں کا موضوع چنا تھا۔ ’نگورنو کاراباخ کو تم لوگوں نے با لکل نظر انداز کر دیا‘، میں نے چھیڑ خانی کی۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ جو لوگ آرمینیا کی نسلی تطہیر کی پالیسی کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے ان کے بچوں کا انٹرویو کریں گے۔ جب اندازہ ہوا کہ اس گروپ کا ایڈیٹر بھی مذاق ہی کر رہا تھا تو ہم لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔

لیکن شام کو جب ہم دن کی کاروائی کا جائزہ لینے بیٹھے تو ہم سوچ رہے تھے کہ جو زخم اتنا گہرا ہے کہ لگتا ہے کہ اب بھی اس سے خون رس رہا ہے اسے بھول کر غیر جانبدارانہ صحافت کے اصولوں کو اپنانے کا سبق کیا حقیقت پسندانہ ہے؟ اگر صحافی ایسا نہیں کریں گے تو قوم کے رویے کو بدلنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ سیاستدان تو یہی چاہتے ہیں کہ عوام اس المیے کا ماتم کرتے رہیں اور اندرونی مسائل پر سوال نہ اٹھائیں۔

نوٹ: آپ اس مضمون پر اپنی رائے ہمیں لکھ کر بھیجیں: کیا صحافی غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کریں یا حقیقت پسندانہ؟

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد