ایک لفظ کے لیے دو پر مقدمہ بغاوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک اردو اخبار کے دو ملازمین کو بغاوت کے مقدمے کا سامنا ہے جو اسی اخبار کے انتظامی مدیر نے اس لیے درج کرایا ہے کہ اخبار میں تین مقامات ایک مبینہ ’قابلِ اعتراض‘ لفظ شامل کیا گیا جو شائع بھی ہو گیا۔ لاہورسے شائع ہونے والے روزنامہ ’خبریں‘ کے یکم ستمبر کے شمارے میں بقیہ جات کے صفحہ پر صدر مشرف اور پنجاب کے ایک رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص کے ناموں کے ساتھ ایک ایسا لفظ لگایا گیا جو اس خبر کے حوالے سے بے جوڑ قرار دیا جا سکتا ہے اور قابل اعتراض بھی ہو سکتا ہے۔ لاہور کے تھانہ سول لائن میں درج ابتدائی رپورٹ میں اخبار کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ لفظ اکتیس اگست اور یکم ستمبر کی رات کو اخبار کے کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کے بعد شامل کیے گئے۔ قابل اعتراض لفظ صفحہ دو پر شائع ہونے والی تین خبروں کے ان بقیہ جات میں شامل تھے جو صفحہ نمبر پندرہ پر شائع ہوئے۔ اخبار کی انتظامیہ نے اپنے ہی ادارے کے ایک کمپوزر اظہار اعوان کو پکڑ کر اس کے دستخط اور انگوٹھا لگے بیان کے ہمراہ اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے دو ستمبر کو امن وامان کے آرڈیننس اور ہتک آمیز دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا اور بعد میں اسی میں مقدمہ بغاوت کے جرم کی دفعہ بھی شامل کر دی گئی جس کے تحت عمر قید تک کی سزادی جا سکتی ہے۔ پولیس نے اس مقدمہ میں نامزد اظہار اعوان کو گرفتار کرنے کےبعد اب اسی ادارے کے انگریزی روزنامے کے ایک سب ایڈیٹر محمد عابد کےخلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیاہے۔ محمد عابد کے وکیل چودھری محمد یونس نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ بظاہر کتابت کی غطلی معلوم ہوتا ہے انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ اخبار کی انتظامیہ نے اپنے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے خود ہی اپنے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرادیاہے۔ عابد کی اہلیہ کرن نے کہا کہ ان کے شوہر کو ایک ایسے مقدمہ میں پھنسا دیا گیا ہے جس میں انہیں انصاف کی امید کم ہے انہوں نے کہا کہ ملکی اخبارات بھی ان کا بیان شائع کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہےکہ محمد عابد اپنی عبوری ضمانت کرانےکے بعد ایک سینئر پولیس افسر کے دفتر میں پیش ہوئے تھے لیکن اسکے بعد سےان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے اورانہیں درخواست ضمانت کی پیشی پر بھی نہیں جانے دیا گیا۔ انوسٹی گیشن پولیس کے ایک اہلکار نےاس بات کی تصدیق تو کی ہے کہ دونوں ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں لیکن ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کی اہلیہ کرن عابد نے بتایا کہ انہیں پکڑنے کے لیے پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مارا انہیں ان کی جوان بہن اور بوڑھی ماں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اخبار کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف اظہار اعوان کو پولیس کے حوالے کیا تھا جبکہ محمد عابد کو پولیس نے خود سےاپنی تفتیش میں شامل کیا ہے اس لیے ان کی گرفتاری سے اخبار کی انتظامیہ کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||