مقامی ادارے: ووٹ نہیں، سڑک نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیقاتی سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام میں گزشتہ چار سال میں ان جگہوں پر کم ترقیاتی کام ہوئے جہاں سے یونین کونسل کا ناظم نہیں تھا یا اسے ووٹ نہیں ملے تھے۔ محبوب الحق انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلیپمینٹ اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل باری کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کی گزشتہ مدت میں کارکردگی پر انہوں نے جو سروے کرائے ان سے پتہ چلا ہے کہ جس گاؤں سے یونین کونسل کا ناظم تھا اس میں شہری سہولتیں پہنچائی گئیں لیکن جس گاؤں سے ناظم کا تعلق نہیں تھا اسے نظر انداز کیاگیا اور وہ گاؤں پیچھے رہ گئے۔ ڈاکٹر فیصل باری نے بتایا کہ ان کے سروے میں سڑک، گلیوں کی سولنگ اور نکاسی آب کی نالیوں کو معیار بنایا گیا تھا کیونکہ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے استعمال سے حریف گروپ کے حمایتیوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ چار برسوں میں مختلف دیہات کے درمیان ان بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی میں فرق بڑھ گیا ہے یعنی بعض دیہات میں یہ سہولتیں دی گئیں اور بعض کو محروم رکھا گیا۔ ڈاکٹر فیصل باری نے بتایا کہ سروے کے دوران میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک گاؤں اور ایک محلہ میں سڑک موجود ہے اور ایک خاص آْبادی کے بعد وہ ختم ہوگئی کیونکہ اس سے آگے کی آبادی نے منتخب ناظم کو ووٹ نہیں دیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ کسی علاقہ میں سڑک موجود ہے، لیکن کچھ دور بعد ختم ہوگئی اور اس کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی کیونکہ بیچ کا علاقہ ناظم کے حریف گروپ کی حمایتیوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر فصیل باری نے بتایا کہ دیہات میں یہ احساس ہے نئے نظام میں کہ مقامی حکومتوں کے پاس زیادہ ترقیاتی فنڈز کا کنٹرول ہے اس لیے ان اداروں پر کنٹرول کرنے کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے میں ایسے دیہات دیکھے گئے جہاں ایک زمیندار کی ملکیتی زرعی زمین تو کم ہے جیسے پچیس ایکڑ لیکن وہ چار پانچ دیہات کے ووٹروں پر اثر انداز ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو مقامی حکومتوں میں منتخب کرانے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کے ذریعے ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔ ڈاکٹر فیصل باری نے کہا کہ ریاست کے اداروں کا کام مساوی شہریت پیدا کرنا ہے لیکن حقیقت میں مقامی حکومتوں کے نظام سے طاقتور کی طاقت کو بڑھایا گیا ہے اور کمزور کو زیادہ کمزور بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے گمشتہ چار سال کے تجربے سے یہ مشاہدہ ہوا ہے کہ اس نطام نے کم آمدن کے طبقوں جیسے مسلم شیخ یا عرف عام میں مصلی برادری کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مصلی آبادی کے علاقہ میں پہلے سڑک نہیں تھی تو ان چار سال میں بھی سڑک نہیں بنی اور وہاں اگر پینے کا پانی دستیاب نہیں تھا تو اب بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر فیصل باری نے کہا کہ مختلف آبادیوں کےد رمیان شہری سہولتوں کی فراہمی میں مقامی حکومتوں نے جو امتیاز برتا ہے اس کی مختلف بنیادیں ہیں جیسے طبقہ، ذات، آمدن، دھڑا، جغرافیہ اور پیشہ۔ان سب بنیادوں پر کچھ لوگوں کو نظام سے باہر رکھا گیا ہے اور ان سے امتیاز برتا گیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل باری نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے قانون میں نئی ترامیم کرکے یونین کونسل کے ارکان کی تعداد اکیس سے کم کر کے تیرہ کردی گئی ہے جس سے کمزور اور کم آمدن طبقوں کو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اب ایک یونین کونسل میں آٹھ کونسلرز کم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلروں کی تعداد میں کمی سے بہت سے دیہات کی یونین کونسلوں میں نمائندگی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیہات شہری حقوق سے محروم رہیں گے جیسا کہ چار سال کا تجربہ بتاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||