ٹھوس شواہد لاؤ: لاہور ہائی کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے ممنوعہ تنظیم سپاہ صحابہ سے ماضی میں مبینہ تعلق کا الزام مسترد کرتے ہوئے سرگودھا کے ایک شخص کو یونین کونسل کا انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی ہے اور قرار دیا ہے کہ ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد ٹھوس نہیں ہیں۔ مولانا قاری خالد سرگودھا کی یونین کونسل مٹھا ٹوانہ میں ناظم کے امیدوار ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے منظور کرلیے تھے۔ ان کےمخالف امیدوار محمد شفیق نے عدالت عالیہ میں رٹ درخواست دائر کی کہ قاری خالد کا تعلق ایک ممنوعہ تنظیم سے رہا ہے اس لیے الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق انہیں انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں اس بات کی تشہیر کی تھی کہ ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اور وہ لوگ بھی جن کا ماضی میں ان تنظیموں سے تعلق رہا وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں۔ آج چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں سرگودھا کے ضلعی پولیس آفیسر کی رپورٹ پیش کی گئی کہ قاری خالد کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج ہوا تھا اور وہ جلسوں میں تقریریں بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم مولانا خالد کو کبھی سزا نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے قاری خالد کو الیکشن لڑنے کی اجازت برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مبہم رپورٹوں کی بنا پر کسی کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا اور نااہلیت کے لیے ٹھوس شواہد ہونا ضروری ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||