BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 August, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹھوس شواہد لاؤ: لاہور ہائی کورٹ

بلدیاتی انتخابات
لاہور ہائی کورٹ نے ممنوعہ تنظیم سپاہ صحابہ سے ماضی میں مبینہ تعلق کا الزام مسترد کرتے ہوئے سرگودھا کے ایک شخص کو یونین کونسل کا انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی ہے اور قرار دیا ہے کہ ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد ٹھوس نہیں ہیں۔

مولانا قاری خالد سرگودھا کی یونین کونسل مٹھا ٹوانہ میں ناظم کے امیدوار ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے منظور کرلیے تھے۔ ان کےمخالف امیدوار محمد شفیق نے عدالت عالیہ میں رٹ درخواست دائر کی کہ قاری خالد کا تعلق ایک ممنوعہ تنظیم سے رہا ہے اس لیے الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق انہیں انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں اس بات کی تشہیر کی تھی کہ ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اور وہ لوگ بھی جن کا ماضی میں ان تنظیموں سے تعلق رہا وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں۔

آج چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں سرگودھا کے ضلعی پولیس آفیسر کی رپورٹ پیش کی گئی کہ قاری خالد کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج ہوا تھا اور وہ جلسوں میں تقریریں بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم مولانا خالد کو کبھی سزا نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے قاری خالد کو الیکشن لڑنے کی اجازت برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مبہم رپورٹوں کی بنا پر کسی کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا اور نااہلیت کے لیے ٹھوس شواہد ہونا ضروری ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دروان میں پنجاب میں ممنوعہ تنظیموں سے وابستگی کے الزام میں ستر سے زیادہ افراد کو حراست میں لے کر نظر بند کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد