’پی پی اور ایم ایم اے سے مفاہمت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اپنے کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے علاوہ انہیں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین اور متحدہ مجلس عمل کے ساتھ انتخابی ایڈجسٹمنٹ کو ترجیع دینے کی ہدایت دی ہے۔ پشاور میں سنیچر کو سعودی عرب سے ٹیلفونک خطاب میں اپنی جماعت کے عہدیداروں اور کارکنوں سے سرکاری جماعت مسلم لیگ (ق) یا اس کی دیگر حلیف جماعتوں سے انتحابی مفاہمت سے منع کیا ہے۔ نواز شریف نے صوبائی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی ورکروں کو اس سلسلے میں پوری آزادی دیں جبکہ خود صرف اس کارروائی کی نگرانی تک محدود رہیں۔ یہ نواز شریف کا اپنی جلاوطنی کے بعد پشاور میں پہلا ٹیلیفونک خطاب تھا۔ بے نظیر اور الطاف حسین کی طرز پر انہوں نے بھی ٹیلیفون کے ذریعے جماعت کے کارکنوں سے خطاب کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل وہ لاہور میں ایسا ہی ایک خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کسی مفاہمت کو مسترد کر دیا اور کہا کہ انہیں اپنی جماعت کے کارکنوں کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان لوٹنا چاہتے ہیں لیکن یہ واپسی اصولوں کا سودا کر کے نہیں خریدی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی نئی صوبائی کابینہ کے علاوہ دیگر پارٹی اراکین بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ سابق وزیر اعلی سرحد پیر صابر شاہ گزشتہ روز دوبارہ پارٹی کے صوبائی صدر منتحب ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||