بلوچستان: چار پولیس اہلکاراغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں نا معلوم افراد نے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا لیا ہے۔ اس دوران پولیس کی ایک دوسری پارٹی سے جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اورتین شدید زخمی ہوئے ہیں۔ نصیر آباد پولیس نے بتایا ہے کہ پولیس کی ٹیم چھتر کے علاقے میں گشت پر تھی کہ ایک جیپ میں سوار کچھ افراد نے انہیں اسلحے کی نوک پر اغواء کر کے گاڑی سمیت اغوا کرکے لے گئے ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اغوا کی وجوہات کیا ہیں تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑ ھ سمجھا جاتا ہے ۔ نصیر آباد سے مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ اغوا کے بعد پولیس ٹیم ملزمان کی گرفتاری کے لیے جا رہی تھی جہاں دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور کم سے کم تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ایک زخمی کی حالت انتہائئی تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ ملزمان کی فائرنگ سے پولیس کی دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ملزمان مغوی پولیس اہلکاروں کو لے کر روپوش ہیں۔ اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد کے متعلق مختلف اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ ایک سب انسپکٹر ایک ہیڈ کانسٹیبل اور دو سپاہیوں سمیت چار اہلکار اغوا ہوئے ہیں اس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے ضلعی پولیس افسر سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن یہی معلوم ہوا کہ وہ متعلقہ علاقے جا چکے ہیں جہاں یہ واردات ہوئی ہے۔ اس علاقے دو ماہ پہلے نا معلوم افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی تھی جس سے دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||