’جوہری نمونےحوالے کیے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جوہری نمونے آئی اے ای اے ویانا بھجوانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ رضاکارانہ طور پر تعاون کر رہا ہے اور یہ تعاون اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ روکنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے جوہری نمونے آئی اے ای اے ویانا بھجوانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ رضاکارانہ طور پر تعاون کر رہا ہے اور یہ تعاون اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ روکنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متروک شدہ سینٹریفیوجز کے پرزے بھیجنے سے پاکستان کی سلامتی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گااس لیے پاکستان نے یہ پرزے اپنے ماہرین کے ہمراہ ویانا بھجوائے ہیں۔ جلیل عباس جیلانی کے مطابق یہ تعاون بعض شرائط کے تحت ہے جسے آئی اے ای اے نے بھی قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرزے دوران تحقیقات تمام وقت پاکستانی ماہرین کی تحویل میں رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان پرزوں کا تجزیہ پاکستانی ماہرین کی موجودگی میں ہو گا اور آئی اے ای اے ان تحقیقات کے نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||