BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 April, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلگت: زندگی معمول پر آ گئی

 گلگت
گلگت کے فرقہ وارانہ فسادات میں درجن بھر سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے
نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقاہ جات کے شہر گلگت میں گزشتہ کئی ماہ سے بند تعلیمی ادارے جمعرات کے روز کھل گئے ہیں۔

یہ بات شمالی علاقہ جات کے سیکریٹری داخلہ حفیظ الرحمٰن نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر تعلیمی اداروں میں حاضری کم رہی۔

ان کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم نے گلگت کے تمام مذہبی مکاتب فکر کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد انہیں نصاب میں ضروری تبدیلیاں کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

حفیظ الرحمٰن نے بتایا کہ جمعرات کو تمام مکاتب فکر کے نمائندوں نے چیف سیکریٹری گلگت کے دفتر میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ جس میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کسی کی دل آزاری ہو اور تعلیمی اداروں کو کھلا رکھنے میں تعاون کریں گے۔

گلگت شہر کے اندر ایک یونیورسٹی اور چھ کالجز کے علاوہ نو سرکاری سکولوں سمیت کل تینتیس تعلیمی ادارے ہیں۔ جن میں بیس ہزار کے لگ بھگ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔جبکہ گرد نواح کے علاقوں میں ڈیڑھ سو کے قریب تعلیمی اداروں میں چالیس ہزار کے قریب طلبا و طالبات پڑھتے ہیں۔

سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کی بعض کتابوں پر اہل تشیعہ نے اعتراضات کیے تھے اور کشیدگی کی وجہ سے گزشتہ سال جون میں کچھ تعلیمی ادارے بند کیے گئے تھے۔

نصاب کے بارے میں پائی جانے والی کشیدگی رواں سال کی ابتدا میں اس وقت تیز ہوگئی جب علامہ ضیاء الدین رضوی ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ جس سے شہر میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ایک درجن سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

اس کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند ہوگئے تھے۔ حکومت نے کافی تعداد میں فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کیے اور انہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں میں کیمپ قائم کر لیے۔

شمالی علاقہ جات کے سیکریٹری داخلہ کے مطابق شہر کے ایک سکول کو سب جیل بھی قرار دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنا حکم واپس لیتے ہوئے زیرحراست افراد کو ’ایلیمینٹری کالج، کے احاطے میں منتقل کردیا ہے اور جمعہ کے روز سے وہ سکول بھی کھل جائے گا۔

نصاب میں تبدیلی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو کی پہلی اور دوم جماعت کی کتابیں جو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع شدہ ہیں اب وہ نہیں پڑھائی جائیں گی بلکہ ان کی جگہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی شائع کردہ کتابیں نصاب میں شامل کردی گئیں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابل اعتراض کتابوں میں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کی ترغیب دینے والی تصاویر تھیں اور کچھ مواد بھی ایسا تھا جس پر اہل تشیعہ اور اسماعیلیوں کو اعتراض تھا۔ ان کے مطابق سوم جماعت میں پڑھائی جانے والی اسلامیات کی کتاب بھی واپس لی گئی ہے اور اس کی جگہ صوبہ سرحد میں پڑھائی جانے والی کتاب شامل کی گئی ہے۔

داخلہ سیکریٹری نے بتایا کہ مختلف مکاتب فکر کے علما کے درمیان جمعرات کو ہونے والے معاہدے کے تحت کوئی بھی فرقہ ایک دوسرے کے خلاف جلسہ جلوس نہیں کرے گا اور شکایت کی صورت میں امن کمیٹی سے پہلے رجوع کرنے کا پابند ہوگا۔

واضح رہے کہ گلگت اور گرد و نواح کے بیشتر علاقوں کا سیاحت پر بڑا انحصار ہے اور حالات کشیدہ رہنے کی وجہ سے اس سال ملکی و غیرملکی سیاحوں کی تعداد قابل ذکر حد تک کم رہی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال میں پیدا ہونے والی بہتری کے بعد اب امکان ہے کہ سیاحوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ گلگت اور آس پاس میں اہل تشیعہ کے مسلک کو ماننے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد