گلگت: سرکاری ملازم قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت میں ایک سرکاری ملازم کے قتل کے بعد سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد ایوب نامی یہ سرکاری ملازم اپنے دفتر کی جانب جا رہے تھے کہ ایک نامعلوم شخص نے انہیں روکا اور نہایت قریب سے ان پر گولی چلا دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ محمد ایوب کا تعلق محکمۂ تعلیم سے تھا اور وہ سنّی العقیدہ تھے۔ یاد رہے کہ بقیہ پاکستان کے برعکس شمالی علاقہ جات میں سنّی اقلیت میں ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ایک فرقہ وارانہ قتل کی واردات ہے کہ نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس سلسلے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ گلگت میں اس قتل کی خبر پھیلتے ہی تمام بازار بند ہوگئے جبکہ فوجی اور نیم فوجی دستوں نے شہر میں گشت شروع کر دیا۔ سرکاری درائع کا کہنا ہے کہ مزید تشدش کو روکنے کے لیے فوج کو بلایا گیا ہے۔ گلگت میں معروف عالمِ دین آغا ضیاالدین کے قتل کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ آغا ضیاالدین کو جنوری میں گولی مار دی گئی تھی جس کے بعد گلگت میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد گلگت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||