BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 March, 2005, 10:30 GMT 15:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلگت: سرکاری ملازم قتل
گلگت
گلگت میں معروف عالمِ دین آغا ضیاالدین کے قتل کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں
گلگت میں ایک سرکاری ملازم کے قتل کے بعد سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد ایوب نامی یہ سرکاری ملازم اپنے دفتر کی جانب جا رہے تھے کہ ایک نامعلوم شخص نے انہیں روکا اور نہایت قریب سے ان پر گولی چلا دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

محمد ایوب کا تعلق محکمۂ تعلیم سے تھا اور وہ سنّی العقیدہ تھے۔ یاد رہے کہ بقیہ پاکستان کے برعکس شمالی علاقہ جات میں سنّی اقلیت میں ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ایک فرقہ وارانہ قتل کی واردات ہے کہ نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس سلسلے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

گلگت میں اس قتل کی خبر پھیلتے ہی تمام بازار بند ہوگئے جبکہ فوجی اور نیم فوجی دستوں نے شہر میں گشت شروع کر دیا۔ سرکاری درائع کا کہنا ہے کہ مزید تشدش کو روکنے کے لیے فوج کو بلایا گیا ہے۔

گلگت میں معروف عالمِ دین آغا ضیاالدین کے قتل کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ آغا ضیاالدین کو جنوری میں گولی مار دی گئی تھی جس کے بعد گلگت میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد گلگت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد