گلگت میں بڑی کارروائی کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقوں میں حفاظتی دستوں نے غیر قانونی اسلحہ پکڑنے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کر دی ہے۔ اس کارروائی میں کئی ہزار نیم فوجی دستے انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ مہم کے دوران ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئیں اور گلگت شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو کا ماحول تھا۔ ملک کے شمالی علاقوں میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کئی دہائیوں میں یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔ نیم فوجی دستے گزشتہ ہفتے گلگت پہنچنا شروع ہو گئے تھے اورانہوں نے ہفتے کے روز شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ شہر میں آنے جانے والے تمام راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ گلگت کا ملک کے دوسرے حصوں سے مواصلاتی رابطہ عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا۔ اس دوران شہریوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ ایک مقامی صحافی نے سیٹلائٹ فون سے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی سڑکیں ویران ہیں اور وہاں غیر اعلانیہ کرفیو ہے۔ شہر میں ایک اعلیٰ عملدار چیف سیکرٹری ندیم منظور نے کہا کہ ایک سو تیس سے زیادہ خودکار بندوقیں اور دوسرے غیر قانونی اسلحے ضبط کیے گئے اور پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ندیم منظور نے کہا کہ تلاش کی اس مہم کا حکم اس وقت دیا گیا جب خفیہ ذرائع سے اطلاعات ملیں کہ حریف شدت پسند گروپ اسلحہ اور گولہ بارود جمع کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ مہم کئی روز تک جاری رہے گی اور پڑوس کے کئی دیہات اور قصبے بھی اس کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||