’گلگت آپریشن جاری رہے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقوں میں حفاظتی دستوں نے غیر قانونی اسلحہ پکڑنے کے خلاف اپنی مہم دوسرے دن بھی جاری رکھی۔ کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ آپریشن کئی دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1988 کے بعد گلگت میں قانون کی صورتحال خراب ہو رہی تھی۔ وفاقی وزیر نے کسی پڑوسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ حکومت کے خفیہ معلومات ہیں کہ بیرون ممالک سے اسلحہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں لایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان راستوں کو بھی بند کیا ہے جن راستوں سے یہ اسلحہ گلگت میں لایا جا رہا تھا۔ ملک کے شمالی علاقوں میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کئی دہائیوں میں یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔ نیم فوجی دستے گزشتہ ہفتے گلگت پہنچنا شروع ہو گئے تھے اورانہوں نے ہفتے کے روز شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ شہر میں آنے جانے والے تمام راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ گلگت کا ملک کے دوسرے حصوں سے مواصلاتی رابطہ عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا۔ اس دوران شہریوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ ایک مقامی صحافی نے سیٹلائٹ فون سے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی سڑکیں ویران ہیں اور وہاں غیر اعلانیہ کرفیو ہے۔ شہر میں ایک اعلیٰ عملدار چیف سیکرٹری ندیم منظور نے کہا کہ ایک سو تیس سے زیادہ خودکار بندوقیں اور دوسرے غیر قانونی اسلحے ضبط کیے گئے اور پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ندیم منظور نے کہا کہ تلاش کی اس مہم کا حکم اس وقت دیا گیا جب خفیہ ذرائع سے اطلاعات ملیں کہ حریف شدت پسند گروپ اسلحہ اور گولہ بارود جمع کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ مہم کئی روز تک جاری رہے گی اور پڑوس کے کئی دیہات اور قصبے بھی اس کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||