خیرپور،الیکڑانک میڈیا اور ثقافت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی ارود سروس کی ٹیم اب خیرپُور پہنچ گئی ہے، یہاں بی بی سی لوگوں سے ’الیکٹرنک میڈیا اور ہماری ثقافت پر اس کے اثراتا‘ کے موضوع پر بات کرے گا۔ اس سے پہلے بی بی سی کی اردو سروس کی ٹیم نے حیدرآباد میں ’پانی کی تقسیم اور ڈیموں کے تعمیر‘ پر ایک مذاکرہ کرایا تھا۔ خیرپُور، حیدرآباد سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ کے کنارے واقع ایک زرخیر ضلع ہے۔ خیرپُور ماضی کی ایک خود مختار ریاست تھی، جہاں تعلیم اہم ترجیح ہوا کرتی تھی۔ خیرپُور کی ایک اور خاص بات، پیر اور درگاہیں بھی ہیں، یہاں کی ایک بڑی درگاہ ہفت زبان شاعر سائیں سچل سرمست کی ہے۔ حیدر آباد کی طرح خیر پُور میں بھی جگہ جگہ بی بی سی کے بینر اور پوسٹر اور سٹال لگے ہوئے دکھائی رہے ہیں۔ بی بی سی کی ٹیم نے شہر میں لگے ان سٹالوں پر جا کر لوگوں سے بات چیت کی اور انہیں اتوار کو ناز ہائی پائلٹ سکول میں اپنے پروگرام کے بارے میں بتایا۔ ناز ہائی پائلٹ سکول خیرپُور کی بہت اہم درسگاہ ہے جو ایک صدی پہلے بنائی گئی تھی۔ اس درسگاہ سے پڑھنے والوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اس سکول سے تعلیم پانے والوں میں سے چار شخصیات سندھ کی وزارتِ اعلی پر فائز ہو چُکی ہیں، ان میں مرحوم پیر الہی بخش، جسٹس سید غوث علی شاہ، سید قائم علی شاہ، جسٹس ریٹائرڈ سید علی مدد شاہ شامل ہیں۔ اس اہم درسگاہ کے علاوہ خیرپُور تاریخی عمارتوں کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ ان عمارتوں میں فیض محل جو اب سابق خیرپوُر ریاست کے والی کی رہائش گاہ ہے بہت اہم ہے۔ خیر پُور کی دیگر اہم جگہوں میں لال بنگلہ، دل شاد منزل، کوٹ ڈی جی کا قلعہ اور سرکٹ ہاؤس بہت اہم ہے۔ بی بی سی اردو سروس کی سامعین رابطہ مہم کی وجہ سے لوگوں کو بی بی سی کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کرنے اور براہِ راست شکوے شکایتوں کا موقع بھی میسر آئا ہے۔ شہر میں لگے بی بی سی کے سٹالوں پر لوگوں کی آمد سے یہ توقع ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اتوار کے دن ناز سکول میں ہونے والے پروگرام میں شرکت کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||