BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کے عملے میں کمی کا اعلان
News image
تھامسن کو مارچ میں بی بی سی کا باس مقرر کیا گیا تھا
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مارک تھامسن نے اعلان کیا ہے کہ بی بی سی کارپوریشن کی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے ہر سال تین سو بیس ملین پاؤنڈ بچائے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے ہزاروں افراد کو بی بی سی کی ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔

توقع ہے کہ تقریباً دو ہزار نو سو ملازمین کو جن میں سے زیادہ تر انتظامیہ کے محکمے سے وابستہ ہیں، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔

تھامسن کا کہنا تھا کہ کارپوریشن کو بچت کی ضرورت ہے تاکہ لائسنس فیس کا زیادہ تر حصہ پروگرام بنانے میں لگایا جا سکے۔

تقریباً دو ہزار کارکنوں کو لندن سے مانچسٹر منتقل کر دیا جائے گا تاکہ بی بی سی میں برطانیہ کے مختلف سننے، پڑھنے یا دیکھنے والوں کی بہتر عکاسی ہو سکے۔

جو محکمے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کا تعلق پیشہ ورانہ ملازمتوں سے ہے جن میں ہیومن ریسورس، تربیت، فنانس اور قانونی مشاورت شامل ہیں۔ تاہم پروگراموں پر قانونی مشاورت کا محکمے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

اگلے تین برس میں ستاون ملین پاؤنڈ بچانے کے لیے خیال ہے کہ تقریباً تین ہزار ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

مانچیسٹر میں بی بی سی کے دفاتر منتقل کرنے میں لگ بھگ پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

سن دو ہزار سات میں بی بی سی کا نیا چارٹر تجدید کے لیے پیش کیا جانا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد