بی بی سی کے عملے میں کمی کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مارک تھامسن نے اعلان کیا ہے کہ بی بی سی کارپوریشن کی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے ہر سال تین سو بیس ملین پاؤنڈ بچائے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے ہزاروں افراد کو بی بی سی کی ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ توقع ہے کہ تقریباً دو ہزار نو سو ملازمین کو جن میں سے زیادہ تر انتظامیہ کے محکمے سے وابستہ ہیں، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ تھامسن کا کہنا تھا کہ کارپوریشن کو بچت کی ضرورت ہے تاکہ لائسنس فیس کا زیادہ تر حصہ پروگرام بنانے میں لگایا جا سکے۔ تقریباً دو ہزار کارکنوں کو لندن سے مانچسٹر منتقل کر دیا جائے گا تاکہ بی بی سی میں برطانیہ کے مختلف سننے، پڑھنے یا دیکھنے والوں کی بہتر عکاسی ہو سکے۔ جو محکمے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کا تعلق پیشہ ورانہ ملازمتوں سے ہے جن میں ہیومن ریسورس، تربیت، فنانس اور قانونی مشاورت شامل ہیں۔ تاہم پروگراموں پر قانونی مشاورت کا محکمے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اگلے تین برس میں ستاون ملین پاؤنڈ بچانے کے لیے خیال ہے کہ تقریباً تین ہزار ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مانچیسٹر میں بی بی سی کے دفاتر منتقل کرنے میں لگ بھگ پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ سن دو ہزار سات میں بی بی سی کا نیا چارٹر تجدید کے لیے پیش کیا جانا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||