خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی، نو مبینہ شدت پسند ہلاک

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب علاقوں میں فضائی کارروائی کی جس میں نو مبینہ شدت پسند ہلاک اور چار ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی جمعہ کو صبح کے وقت شروع کی گئی ہے ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جنگی طیاروں نے وادی تیراہ میں کوکی خیل قبیلے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں نو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کے چار ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ علاقے میں فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

کوکی خیل قبیلے کے یہ علاقے انتہائی دور افتادہ ہیں جہاں مواصلات کا نظام بھی مناسب نہیں ہے جس وجہ سے اس علاقے میں رابطے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ کارروائی پاک افغان سرحد پر واقعے علاقوں میں کی گئی ہے اس سرحدی علاقوں میں گذشتہ ماہ کے وسط میں بھی سکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔ ایک ہفتے کے دوران متعدد فضائی حملے کیے گئے تھے جس میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کیے گئے تھے۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے

خیبر ایجنسی میں آپریشن ضرب عضب کے ساتھ خیبر ون اور پھر بعد میں خیبر ٹو کے نام سے فوجی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ قبائلی علاقوں میں جنوبی وزیرستان ایجنسی کے بعد خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے تک وقفے وقفے سے فوجی آپریشن کیے گئے ہیں ۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جن کی واپسی کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔

گزشتہ روز باڑہ تحصیل کے مختلف قبائل کے لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ حکام کے مطابق ڈھائی ہزار کے لگ بھگ متاثرہ ان خاندانوں کی واپسی اکتوبر تک مکمل ہو سکے گی۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق تمام قبائلی علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔