مہمند ایجنسی میں دھماکہ، ایک اہلکار ہلاک

مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمہمند ایجنسی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جمرود ، خیبر ایجنسی

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہوگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکہ اتوار کی صبح تحصیل صافی کے علاقے کوز چمرکند میں ہوا۔

تحصیل صافی کے پولیٹکل تحصیلدار محمود شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملیشا فورس کے اہلکار زربادشاہ ایک تباہ شدہ مکان سے سامان لے کر جارہے تھے کہ اس دوران وہاں پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے زوردار دھماکہ ہوا جس سے وہاں موجود اہلکار ہلاک ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہ مکان ایک مبینہ شدت پسند کا تھا جسے چند دن پہلے سکیورٹی فورسز کی طرف سے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند ہفتوں سے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ایک مرتبہ تیزی آرہی ہے۔ بیشتر حملوں میں سکیورٹی اہلکار یا حکومتی حامی قبائلی مشران اور سرداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار وقتاً فوقتاً ان حملوں کیی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کرتی رہی ہے۔

 کچھ عرصہ سے ٹانک میں بھی امن کمیٹی کے اہلکاروں پر حملوں میں شدت دیکھی جارہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن کچھ عرصہ سے ٹانک میں بھی امن کمیٹی کے اہلکاروں پر حملوں میں شدت دیکھی جارہی ہے

مہمند ایجنسی میں چند سال پہلے ہونے والے فوجی کاروائیوں کی وجہ سے علاقے سے شدت پسندوں کو بے دخل کیا گیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ مہمندایجنسی کے زیادہ تر کالعدم تنظیموں نے سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

حالیہ حملوں سے ایک مرتبہ پھر علاقے میں خوف کی کفیت پائی جاتی ہے۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص کا تعلق طالبان مخالف امن کمیٹی سے رہا ہے۔ تاہم پولیس نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ ہلاک شخص کا تعلق امن کمیٹی سے تھا یانہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ کچھ عرصہ سے ٹانک میں بھی امن کمیٹی کے اہلکاروں پر حملوں میں شدت دیکھی جارہی ہے۔