خیبر ایجنسی میں نو شدت پسند ہلاک، چھ ٹھکانے تباہ

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے زمینی اور فضائی کارروائیوں میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے نو شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
یہ کارروائی پاک افغان سرحد پر کی جا رہی ہے جس میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی بھی جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں گولہ بارود سمیت شدت پسندوں کے چھ ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
راجگل خیبر ایجنسی کا دور افتادہ علاقہ ہے جہاں اونچے پہاڑ اور جنگلات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس علاقے میں مواصلات کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے اطلاعات کے لیے مکمل انحصار آئی ایس پی آر پر ہی ہے جب کہ خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ اس طرح کی کارروائیوں کے بارے میں کم ہی اطلاعات فراہم کرتی ہے۔
اس آپریشن کے پہلے روز سکیورٹی حکام کے مطابق 14 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا لیکن کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ان کے تمام افراد محفوظ ہیں۔
آئی ایس پی آر نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ آپریشن کے تیسرے روز 11 شدت پسند ہلاک مارے گئے تھے۔







