’آپریشن راجگل کیا آخری معرکہ ہوگا؟‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کی سکیورٹی افواج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک مشکل اور بڑے معرکے کا آغاز کیا ہے اور اس مرتبہ یہ علاقہ راجگل کا ہے۔
مبصرین کے مطابق خیبر ایجنسی کے اس مشکل ترین علاقے میں فوجی آپریشن کا مقصد شدت پسندوں کے افغانستان سے پاکستان میں داخلے کو روکنا ہے۔
راجگل پاکستان کے قبائلی علاقےخیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کا حصہ ہے۔
اس پہاڑی علاقے میں گھنے جنگلات ہیں اور یہ خیبر ایجنسی کا ایک خوبصورت علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
وادی تیراہ وسیع رقبے پر محیط ہے اس کی سرحدیں مشرق میں پشاور سے اور مغرب میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ملتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح جنوب میں اورکزئی ایجنسی جبکہ جنوب مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے۔
خیبر ایجنسی کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور راجگل کا علاقہ بھی پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔
راجگل میں فوجی آپریشن منگل کو شروع کیا گیا اور پہلے روز شدت پسندوں کے نو ٹھکانے اور اسلحے کے ڈپو تباہ کیے گئے۔
راجگل کا یہ علاقہ سکیورٹی افواج کے کیے کتنا مشکل ہے اور اس محاذ کا انتخاب آخر میں کیوں کیا گیا ہے اس بارے میں عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ٹو بڑے آپریشن تھے اور وہاں فوج کی بڑی تعداد تعینات تھی اس لیے راجگل میں آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس آپریشن سے ان علاقوں میں روپوش شدت پسندوں کا صفایا کرنا اور سرحد کو محفوظ بنانا ہے تاکہ شدت پسند خفیہ راستوں سے پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

بریگیڈیر ریٹائرڈ سید نذیر کا کہنا تھا کہ راجگل شمالی وزیرستان کے علاقے شوال سے مماثلت تو رکھتا ہے لیکن راجگل اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہاں سے فرار کے مختلف راستے ہیں اور اس کے علاوہ افغانستان میں تورہ بورہ جیسے اہم علاقے بھی زیادہ دور نہیں ہے۔
بنیادی طور پر یہ علاقہ خیبر ایجنسی کے بڑے قبیلے کوکی خیل کا ہے لیکن اس آپریشن سے کافی پہلے یہاں سے لوگ جمرود اور دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکے تھے۔
خیبر ایجنسی کے مقامی صحافی ولی خان شنواری کا کہنا ہے کہ راجگل دور دراز اور پسماندہ علاقہ ہے لیکن قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ تیراہ کے مختلف علاقے خیبر باہ، ستار کلے اور راجگل میں سکیورٹی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں لیکن ان علاقوں میں مواصلات کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات موصول نہیں ہو رہیں۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر کے مطابق راجگل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے ارکان روپوش ہیں جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے علاوہ لشکر اسلام شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ راجگل کا علاقہ اونچائی پر ہے اور اسی لیے یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے جب کہ سردیوں کے شروع میں یہاں دھند بہت ہوتی ہے اس لیے سکیورٹی افواج کو یہ آپریشن دو مہینوں کے اندر اندر مکمل کرنا ہوگا۔
سکیورٹی افواج اب تک باڑہ اور تیراہ کے دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن مکمل کر چکی ہیں اور بڑے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف قرار دے دیا گیا ہے ۔
اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ راجگل کا یہ آپریشن کیا ضرب عضب اور خیبر ٹو کا آخری معرکہ ہوگا یا یہ آپریشن پاک افغان سرحد پر واقع دیگر علاقوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔







