’سیلابی ریلے میں بہنے والے 12 افراد کی لاشیں کنڑ سےملیں‘

دورش کے علاقے میں ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد تا حال لاپتہ ہے
،تصویر کا کیپشندورش کے علاقے میں ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد تا حال لاپتہ ہے

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ضلع چترال میں بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے 12 افراد کی لاشیں افغان صوبے کنڑ کے مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔

دوسری جانب چترال کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلوں میں بہنے والے 28 افراد لاپتہ ہیں جبکہ چھ کی لاشیں افغانستان سے ملی ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب چترال کے علاقے ارسون میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تیز بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے سے ایک مسجد، سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ سمیت متعدد مکانات کبہہ گئے تھے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سید انور نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فضلی نے بتایا کہ چترال کے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد میں سے کم ازکم 12 کی لاشیں افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملی ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

’تمام لاشوں کو کفن اور تابوت کر کے ان کے لواحقین کے حوالے کیا ہے یہ ہماری ذمہ داری تھی۔‘

ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلابی ریلوں میں کم از کم 28 افراد لاپتہ ہوگئے جبکہ چھ افراد کی لاشیں افغانستان کے علاقے سے ملی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو مطلع صاف تھا اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

ان دونوں گرمی کے موسم میں پہاڑوں کی برف پگھلنے سے بھی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنان دونوں گرمی کے موسم میں پہاڑوں کی برف پگھلنے سے بھی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے (فائل فوٹو)

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی بہہ گئی ہے جس میں موجود آٹھ اہلکار لاپتہ ہیں اور چار زخمی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر چترال کے بقول صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات بھی درپیش ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں فوج نے بھی امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں ہیں اور اس حوالے سے آئی ایس پی ار کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے اور متاثرین کو کھانا ، خیمے ، کمبل اور ادویات فراہم کردی گئ ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر کے زریعے زحمی کو نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چترال میں 35 مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 47 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

فوج کی جانب سے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہispr

،تصویر کا کیپشنفوج کی جانب سے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے

صحافی انور شاہ کے مطابق تھانہ دورش کے پولیس اہلکار امیر اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ارسون گاؤں میں سیلابی ریلا مسجد میں داخل ہونے سے دس نمازی بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں جبکہ 20 نمازی زخمی ہوئے ہیں۔

تھانہ دورش کے علاقے میں ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد تا حال لاپتہ ہیں۔

ادھر محکمہ موسمیات نےآئندہ چوبیس گنھٹوں کے دوران خیبر پختونخواہ میں تیز بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے جس کے بعد سوات میں انتظامیہ نے دریا کے کنارے آباد لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے بتایا ہے کہ حکومت نے امدادی سرگرمیوں کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کردئیے ہیں جسمیں سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کے لواحیقین کےلیے تین تین جبکہ زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے دئے جائینگے

یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی چترال میں بارشوں کے بعد سیلاب آیا تھا۔ جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے کئی سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے تھے۔