سیلاب سے آفت زدہ قرار ضلع چترال میں ہلاکیتں 31 ہوگئیں

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، چترال
خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ رات آنے والے سیلاب میں ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو سو سے زائد مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
گذشتہ روز موکہو میں آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ سیلاب بھونی روڈ پر واقع ریشون میں آیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق دو دکانوں اور چار مکانات مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ دو سو مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلابی نالہ آبادی کے بیچ سے گزرتا ہے جس سے عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
ریشون میں صوبائی حکومت کی جانب سے قائم ایک چھوٹا بجلی گھر بھی واقع ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ بجلی گھر میں بھی پانی داخل ہوا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بالائی چترال کی جانب جانے والے راستے اب تک بند ہیں۔ حکام بھونی روڈ پر ریشون اور آگے مستوج جانے والے راستے ٹریفک کے لیے کھول رہے ہیں۔ اس روڈ پر بلڈوزر کے ذریعے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں۔
فوج کے زیلی ادارے ایف ڈبلیو او کے اہلکار محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ لینڈ سلائڈنگ اور سیلاب سے سڑکوں پر پھیل جانے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ چترال سے ریشون تک کوئی 50 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے میں سڑک پانچ سے چھ مقامات پر بند ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریشون کی جانب بڑی تعداد میں لوگ پیدل جا رہے تھے تاکہ وہاں جا کر اپنے رشتہ داروں اور لوگوں کی مدد کر سکیں۔
بھونی روڈ پر ریشون سے پہلے لینڈ سلائڈنگ سے بند سڑک پر موجود ایک شخص عزیزالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ریشون اپنے رشتہ دار کی مدد کے لیے جا رہے ہیں اور اسی طرح دیگر لوگ بھی کوششیں کر رہے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داورں کے پاس پہنچ سکیں۔

چترال سے مستوج جانے والے بھونی روڈ کے علاوہ وادی کیلاش اور گرم چشمہ کی جانب جانے والے راستے بھی ابھی تک بند ہیں کہیں لینڈ سلائڈنگ سے سڑکوں پر ملبہ پڑا ہے تو کہیں سیلابی پانی سڑکیں اور پل بہا کرلے گیا ہے۔
چترال اور اس کے دیگر علاقے سنگلاخ پہاڑوں میں گھرے ہوئے ہیں ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کا پانی پتھروں اور مٹی کے تودے لے کر اس قدر رفتار سے آتا ہے کہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو بہا کر لے جاتا ہے۔
ان علاقوں کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ اکثر ان مقامات پر زیادہ نقصان ہوا ہے جہاں ان سیلابی ندی نالوں کے قریب آبادیاں قائم ہیں۔
سیلاب کے متاثرین اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بیشتر علاقوں میں امدادی سامان نہیں پہنچایا جا سکا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ جو امداد ان تک پہنچ رہی ہے وہ انتہائی کم ہے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے سامان لے کر پہاڑی راستوں سے لمبا سفر کرکے سامان لے جا رہے ہیں۔







