بلوچستان میں بارشوں کے باعث 14 افراد ہلاک

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کی وجہ سے مجموعی طور پر 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنپی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کی وجہ سے مجموعی طور پر 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجنوں مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ان میں سے پانچ افراد کی ہلاکت کا واقعہ جمعہ اور سینیچرکی درمیانی شب کوئٹہ شہر سے 50کلومیٹر دور پشین میں پیش آیا۔

پشین میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کلی حاجیزئی میں بارش کے باعث ایک گھر کی چھت گر گئی۔ چھت گرنے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین مرد ، ایک خاتون اور ایک بچی شامل تھی۔

اس سے قبل بارشوں سے پانچ افراد وزیرستان سے متصل بلوچستان کے ضلع شیرانی میں ہلاک ہوئے تھے ۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ذرائع کے مطابق ضلع کے علاقے شنہ پونگا میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے ایک گھرکی چھت گر گئی۔

چھت گرنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور اس کے چار بچے شامل تھے ۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق چاغی، مستونگ اور لورالائی کے علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے بھی چار افراد ہلاک ہوئے۔

ادھر کوئٹہ شہر میں بارشوں کی وجہ سے کچھے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ کوئٹہ شہر میں مکانات کو سب سے زیادہ نقصان سریاب کے علاقے میں پہنچا ۔ سریاب کے علاقے نیو مسلم آباآ میں بارشوں سے زمین بھی میں دراڑ پڑ گئی ہے۔

مسلم آباد اور کلی گوگڑائی میں گھروں کو نقصان پہنچنے کہ وجہ سے لوگوں کو سردی میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سریاب میں زمین میں دراڑ پڑنے کی وجہ سے تین سو سے زائد گھروں کو خطرہ لاحق ہے جس سے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں۔

سریاب کے علاقے سے منتخب رکن اسمبلی نصراللہ زیرے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہر ممکن امداد کی فراہمی کے علاوہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ زمین میں دراڑ کیوں پڑ گئی ہے۔

بارشوں کے باعث ضلع لسبیلہ میں متعدد علاقے بھی زیر آب آگئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق بلوچستان میں مزید دو سے تین روز تک تیز بارشوں کا امکان ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کا بھی خطرہ ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور برساتی نالوں کے قرب و جوار کے علاقوں سے دور رہیں۔

پی ڈی ایم کے ذرائع کے مطابق بلوچستان کے جن علاقوں میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے وہاں امدادی اشیا بھیج دی گئی ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق جن 20 اضلاع میں سیلاب کا زیادہ خطرہ تھاوہاں کے ڈپٹی کمشنروں کو ہنگامی ریلیف کے لیے 50، 50 لاکھ روپے جاری کردیے گئے ہیں۔