چترال میں سیلاب کی وجہ سے بجلی کا بحران
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے بجلی کا بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔
چترال میں لگ بھگ 220 چھوٹے بڑے بجلی گھر ہیں جن میں سے 50 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں صوبائی حکومت کا ریشیون کا بجلی گھر شامل ہے جسے دوبارہ مرمت کرنے میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
چترال سے کوئی 40 کلومیٹر دور دیر روڈ پر واقع ششی ہائڈل پاور پلانٹ کے ٹربائن نے اس وقت کام چھوڑ دیا تھا جب اس تک پانی پہنچانے والے چھ کلومیٹر طویل واٹر چینل میں مٹی، ریت اور پتھر بھر گئے تھے۔
اس مشین کا پہیہ گھومتا ہے تو قریب آبادی کے گھر بجلی سے روشن ہو تے ہیں۔
پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے عملے کی یہی کوشش ہے کہ اس بجلی گھر کو جلد سے جلد کام کے قابل بنایا جائے۔
پی ای ڈی او کے ڈائریکٹر قیوم نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بجلی گھر تک پانی کے تین بڑے گیٹ تھے جو بند ہو گئے تھے۔ ان کی صفائی کے لیے دن رات 100 مزدور کام پر لگائے گئے تاکہ جلد سے جلد اس بجلی گھر کو چالو کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ششی پاور پروجیکٹ سے چترال کا یہ علاقہ جس میں آیون اور دیگر دیہات شامل ہیں، روشن ہوتا ہے جبکہ ریشون پاور پروجیکٹ سے اپر چترال کے دیہاتوں میں بجلی فراہم کی جاتی ہے اور جو بچ جاتی ہے وہ پیسکو کو دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے بحران کے دوران بھی چترال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پختونخوا انرجی ڈیویلپنٹ آرگنائزیشن کا یہ بجلی گھر لگ بھگ دو میگا واٹ کا ہے اور یہ بجلی پھر واپڈا کو تین روپے فی یونٹ میں بیچی جاتی ہے۔ جبکہ واپڈا آگے یہ بجلی گھریلو صارفین کو آٹھ روپے تک اور کمرشل صارفین کو 15 روپے تک بیچتا ہے۔
چترال میں شدید سیلابی ریلوں سے صوبائی سطح پر قائم رویشون ہائڈل پاور پلانٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ جسے حکام کے مطابق اب دوبارہ سے تعمیر کیا جائے گا اور اس پر کوئی ایک ارب روپے تک لاگت آئے گی۔
ریشون کی بجلی گھر لگ بھگ چار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا تھا جس سے اپر چترال کی بڑی آبادی مستفید ہوتی تھی۔
چترال سے منتخب سابق صدر پرویز مشرف کی پارٹی کے واحد رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین کا کہنا ہے کہ چترال میں کم سے کم 5000 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے ایسے منصوبے موجود ہیں جن پر ابتدائی کام ہو چکا ہے لیکن شاید حکومتیں اس طرف توجہ ہی نہیں دینا چاہتیں۔

انھوں نے کہا کہ اپر چترال سمیت کوئی دو سے ڈھائی لاکھ افراد اس بجلی کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں اس لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
چترال میں کوئی 220 سے زیادہ چھوٹے بجلی گھر ہیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے کوئی 45 سے50 چھوٹے بڑے بجلی گھروں کو یا نقصان پہنچا ہے اور یا وہ پانی بہہ گئے ہیں۔ ان بجلی گھروں میں دو، دو واپڈا اور پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ہیں جبکہ 175 تک بجلی گھر آغا خان دیہی سپورٹ پروگرام اور کوئی 35 سے 40 تک سرحد دیہی سپورٹ پروگرام کے تحت قائم ہیں۔
نجی سطح پر بھی لوگوں نے چار سے پانچ چھوٹے بجلی گھر قائم کر رکھے ہیں۔ ان تمام بجلی گھروں سے کوئی 15 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے لیکن بعض علاقوں میں ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں چھوٹے بڑے متعدد بجلی گھر قائم کیے جا سکتے ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس وقت کوئی 300 سے زائد ایسے منصوبے ہیں جن پر ابتدائی کام کیا جا رہا ہے۔








