فاٹا اصلاحات سے قبائل غیرمطمئن کیوں؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ جب بھی کسی سرکاری کام میں تاخیر مطلوب ہو یا اسے متنازع بنانا ہو تو اس کے لیے کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔
قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے بنائی گئی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کو بھی سات ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن ابھی تک اس کی سفارشات کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے جس سے قبائلی عوام میں شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔
گذشتہ سال نومبر میں بنائی جانے والی کمیٹی کے قیام کا مقصد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے سٹیٹس سے متعلق فیصلہ کرنا ہے یعنی یہ تعین کرنا کہ فاٹا الگ صوبہ ہونا چاہیے ، اسے خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے یا منتخب اراکین پر مشتمل ایگزیکٹو کونسل کی تشکیل مسائل کا حل ہے۔
خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کے اب تک کئی اجلاس ہوچکے ہیں جبکہ کمیٹی کے اراکین نے قبائلی عوام کی رائے جاننے کےلیے باری باری تمام ایجنسیوں کے دورے بھی کیے ہیں لیکن ابھی تک سفارشات کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا اور نہ اس ضمن میں کوئی ٹائم فریم دیا گیا ہے۔
اس کمیٹی کے بارے میں قبائلی عوام کی عمومی رائے کیا ہے، کیا وہ اس اصلاحاتی عمل سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور فاٹا کے سٹیٹس سے متعلق ہر فیصلہ انھیں قبول ہوگا، اس ضمن میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے فاٹا لائرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما اعجاز مہمند ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے زیادہ تر سیاسی رہنما اور عمائدین پہلے ہی اس کمیٹی کو اس بنیاد پر مسترد کر چکے ہیں کہ اس میں فاٹا کی کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

’اس کمیٹی میں فاٹا سے کسی رکن اسمبلی تک کو شامل نہیں کیا گیا ہے لہٰذا ہم اسے قبائلیوں کی نمائندہ کمیٹی نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ پنجابی کمیٹی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے برعکس متحدہ قبائل پارٹی (ایم کیو پی) جنوبی وزیرستان کے صدر نقیب محسود کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں فاٹا کی نمائندگی تو نہیں لیکن سرتاج عزیز، عبدالقادر بلوچ اور اقبال ظفر جھگڑا ایسے ارکان ہیں جو قبائلی علاقوں کی روایات اور طور طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔
فاٹا الگ صوبہ ہونا چاہیے یا اسے خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے یا وہاں آزاد کونسل کی تشکیل مسائل کا حل ہے ، اس بارے میں بات کرتے ہوئے نقیب محسود نے کہا کہ موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کی طرز پر الگ کونسل کا قیام بہترین حل ہوگا جس سے قبائل کو الگ شناخت مل جائےگی اور ان کے مسائل بھی ان کی اپنی کونسل حل کرائے گی۔
انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام فاٹا میں ایک صدی سے رائج انگریزوں کے دور کے قانون ’ایف سی آر‘ کا فوری ِطور پر خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ انھیں ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی مل سکے۔
اس معاملے پر اعجاز مہمند کا موقف تھا کہ فاٹا کے تمام مسائل حقیقی طور پر اس وقت حل ہوں گے جب اسے ملاکنڈ ڈویژن کی طرز پر پاٹا کی حیثیت دے دی جائےگی۔
انھوں نے کہا کہ اس سٹیٹس کے تحت فاٹا کا سارا انتظام صوبے کے ماتحت ہوجائے گا اور اس نظام میں جرگہ سسٹم بھی بحال ہے، نظام عدل اور شرعی عدالتیں بھی ہونگی اور ساتھ ساتھ قبائلی عوام کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی بھی حاصل ہو جائےگی جو ان کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فاٹا میں تمام اصلاحات باری باری ہونی چاہییں تاکہ عرصہ دراز سے آزاد رہنے والے قبائل ایک منظم طریقے سے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔
اس سوال پر کہ اگر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جاتا ہے تو اس سے اختیارات کی کھینچا تانی اور انتظامی مسائل تو پیدا نہیں ہوں گے، نقیب محسود نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اختیارات اور وسائل کے معاملات سامنے آئیں کیونکہ فاٹا ایک وسیع علاقے پر مشتمل ہے اور یہ ایک وزیراعلیٰ کے بس کی بات نہیں ہوگی کہ دونوں علاقوں کو ایک ہی وقت میں کنٹرول کر سکے۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنے اضلاع کے دورے نہیں کر سکتے تو وہ دور دراز قبائلی علاقوں پر کیا توجہ دے سکیں گے؟
اعجاز مہمند ایڈوکیٹ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو پاٹا کی حیثیت دینے یا اسے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے کوئی انتظامی مسائل پیدا نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خوشحالی آئے گی اور قبائلی عوام کی اکثریت کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے گا۔







