’فوج اپنا کام پورا ہونے تک واپس نہیں جائے گی‘

برّی فوج کے سربراہ نے قبائلی عمائدین کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرّی فوج کے سربراہ نے قبائلی عمائدین کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف شروع کیا جانے والا آپریشن ضربِ عضب اپنے حتمی مرحلے میں ہے اور اس کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی بازآبادکاری رواں برس کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔

انھوں نے یہ بات منگل کو ضربِ عضب کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سرحدی چوکیوں کے دورے کے بعد کہی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اس دورے میں جہاں آرمی چیف کو آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بریفنگ دی گئی وہیں بےگھر ہونے والے افراد کی دوبارہ آباد کاری کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور اس کے علاقے پر ہونے والے سماجی اثرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز شروع کیا گیا تھا اور اس کے دوران ان کی کمین گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ آپریشن اب اپنے حتمی مرحلے میں ہے اور دہشت گردوں کے اکادکا ٹھکانے ہی باقی رہ گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق برّی فوج کے سربراہ نے قبائلی عمائدین کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا اور فوج اپنا کام پورا ہونے تک واپس نہیں جائے گی۔

آرمی چیف نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی دوبارہ آبادکاری رواں سال کے آخر تک ہو جائے گی۔

راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کنٹرول کرنے کے لیے بارڈر مینیجمنٹ مزید بہتر بنائی جائے گی

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنراحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کنٹرول کرنے کے لیے بارڈر مینیجمنٹ مزید بہتر بنائی جائے گی

شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 10 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

ان متاثرہ افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 25 ہزار سے زیادہ خاندان واپس جا چکے ہیں تاہم کچھ ایسے علاقے جو پہلے شدت پسندوں سے صاف قرار دیے گئے تھے ان علاقوں سے رواں برس پھر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

راحیل شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغان سرحد پر آمدورفت کنٹرول کرنے کے لیے ’فاٹا میں اب ہماری توجہ بارڈر مینیجمنٹ کو مزید بہتر بنانے پر مرکوز ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب کے تحت ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشن اور سرچ آپریشن جاری رہیں گے۔

جنرل راحیل شریف نے اپنے اس دورے کے دوران کئی تعمیراتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا جن میں 72 کلومیٹر طویل میران شاہ، رزمک، مکین دوریہ سڑک بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے جنوبی وزیرستان میں شولام کے مقام پر 100 بستروں پر مشتمل شیخہ فاطمہ بنتِ مبارک ہسپتال کا افتتاح بھی کیا۔