’دہشتگرد پسپا ہوئےمگر لوگوں کی بحالی کا مرحلہ مشکل‘

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری فوجی آپریشن سے ریاست کی عمل داری قائم ہوئی ہے لیکن اب متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی دوبارہ بحالی سے آپریشن اپنے مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
بدھ کو پشاور میں کور کمانڈر ہیڈ کوارٹر میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شریک تھے۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں پیش رفت اور آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں شریک فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے کہا کہ قبائلی علاقوں سمیت ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ فوجی آپریشن سے ریاست کی عمل داری قائم ہوئی ہے لیکن آپریشن کا مشکل ترین مرحلہ متاثرہ علاقوں میں انتظامی اُمور کو عوامی امنگوں کےمطابق ترتیب دے کر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔‘
فوج کے سربراہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی عوام اور قبائلیوں نے ہمت اور حوصلے سے دہشت گردوں کو پسپائی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب حکومت اور قبائلی عوام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو دوبارہ ان علاقوں میں نہیں آنے دیا جائے گا۔
جنرل راحیل نے کہا کہ فوج آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کام مکمل کر کے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بروقت واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، گورنر، فاٹا اور صوبائی حکومت کی انتظامیہ شریک تھی۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی دوبارہ آباد کاری اور متاثرہ علاقوں میں ڈھانچے کی تعمیر اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں شریک فوج کے سربراہ نے کہا کہ قبائلی عوام کے تعاون سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہوا۔







