شمالی وزیرستان میں مزید علاقے خالی، پناہ گزین بنوں میں

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں اب مزید علاقے خالی کرائے جا رہے ہیں اور حکام کے مطابق دو ہفتے پہلے ایسے متاثرین بھی بنوں پہنچے ہیں جو دوسری مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے بنوں آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ مزید خاندان بھی بنوں پہنچ رہے ہیں۔

حکام کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے سیدگئی اور دیگان سے دو ہفتے پہلے کوئی 270 خاندان نقل مکانی کرکے بنوں پہنچے تھے۔ ان متاثرین کی یہ دوسری مرتبہ نقل مکانی ہے کیونکہ آپریشن کے شروع کے دنوں میں بھی یہ لوگ قریبی علاقوں کو منتقل ہو گئے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ سیدگئی کے قریبی علاقے جیسے فقیران اور خرسین خالی کرائے جا رہے ہیں۔

بنوں سے چند روز پہلے نقل مکانی کرنے والے متاثرین نے بتایا کہ ان کو اطلاع ملی ہے کہ اب سکیورٹی فورسز خرسین، فقیران اور دیگر قریبی دیہات خالی کرا رہے ہیں اور وہاں سے لوگوں کو بنوں منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں سینکڑوں خاندان آباد ہیں۔

واضح رہے کہ یہ علاقے پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔

ان متاثرین کا کہنا تھا کہ چند روز پہلے پہنچنے والے بے گھر افراد کو بھی ابھی تک امدادی اشیا اور خیمے فراہم نہیں کیے گئے۔

ایک متاثرہ شخص خانبت خان نے بتایا کہ نئے آنے والے بیشتر متاثرین کو پہلے آنے والے متاثرہ افراد نے پناہ دے رکھی ہے۔

ایک متاثرہ شخص خانبت خان نے بتایا کہ نئے آنے والے بیشتر متاثرین کو پہلے آنے والے متاثرہ افراد نے پناہ دے رکھی ہے (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنایک متاثرہ شخص خانبت خان نے بتایا کہ نئے آنے والے بیشتر متاثرین کو پہلے آنے والے متاثرہ افراد نے پناہ دے رکھی ہے (فائل فوٹو)

دو ہفتے پہلے بنوں پہنچنے والے متاثرہ افراد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے علاقے میں ایک روز پہلے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا اور پھر اگلے ہی روز انھیں کہا گیا کہ گاڑیوں میں بیٹھو اور علاقہ خالی کردو۔

ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز پہلے سرحد سے دور تھیں لیکن اب وہ بالکل سرحد پر آ گئی ہیں اس لیے یہ علاقے خالی کرائے گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد انور خان شیرانی نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے جن علاقوں سے لوگوں کو نقل مکانی کرنے کا کہا گیا تھا وہ علاقے سکیورٹی کے حوالے کلیئر نہیں کیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ سیدگئی اور قریبی علاقے کے لوگ پہلے آپریشن میں قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے اور چند روز کے آپریشن کے بعد انھیں اپنے علاقے میں واپس لایا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ علاقے محفوظ نہیں ہیں اس لیے فورسز اس علاقے میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں کہ کہیں کوئی بارودی سرنگ یا کوئی دھماکہ خیز مواد نصب نہ کیا گیا ہو اور سرچ آپریشن کے بعد انھیں واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کوئی 10 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

ان متاثرہ افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک کوئی ساڑھے 22 ہزار خاندان واپس جا چکے ہیں لیکن اسی دوران جو علاقے پہلے شدت پسندوں سے صاف قرار دیے گئے تھے ان علاقوں سے اب پھر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔