شمالی وزیرستان میں آپریشن کے آخری مرحلے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بدھ کو جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے وادی شوال کا دورہ کیا۔
فوج کے سربراہ نے دشوار گزار گھاٹیوں پر مشتمل وادی شوال سے دہشت گردوں کی باقیات کو صاف کرنے، بلاامتیاز ان کو تنہا کرنے اور ان کے ملک بھر میں معاونین اور سہولت کاروں سے رابطے توڑنے کے لیے آپریشن کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
فوج کے سربراہ کو آپریشن کمانڈر نے اس آپریشن میں حاصل کر جانی والی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
فوج کے شعبہ تعلقات عاملہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وادیِ شوال اور دتہ خیل سے آگےگھنے جنگلات اور گھاٹیوں پر مشتمل علاقہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا آخری ٹھکانہ رہ گیا ہے اور اس علاقے کو دہشت گرد پاکستان اور افغانستان میں آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
فوج کے سربراہ نے آپریشن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال اگست میں فوج نے آپریشن ضربِ عضب کے سلسلے میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں فوج کی زمینی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
فوج کے ترجمان نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا۔ فوج نے اب تک کی کارروائیوں میں ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا۔
2015 میں آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر بتایا گیا تھا کہ مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور اس عرصے میں سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔







