شوال میں فوج کی فضائی کارروائیوں میں 14 شدت پسند ہلاک

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں فورسز کی فضائی کارروائیوں میں 14 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں میں 14 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ برس جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا جبکہ صوبہ پنجاب کے شہر اٹک میں دو ہفتے پہلے صوبائی وزیر داخلہ پر خود کش حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں تیزی لائی گئی اور شوال میں فوج کی زمینی کارروائی کا اعلان بھی چند روز قبل ہی کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان دو ہفتوں میں اس علاقے میں 200 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں جن میں خود کش بمبار شامل تھے اور ان شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔

مقامی متاثرین

گذشتہ سال جب شمالی وزیرستان میں کارروائی کا آغاز ہوا تھا تو شوال کے مقامی افراد کو نقل مکانی کے لیے نہیں کہا گیا اور اب وہ وہاں محصور ہو گئے ہیں: قبائلی رہنما

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال جب شمالی وزیرستان میں کارروائی کا آغاز ہوا تھا تو شوال کے مقامی افراد کو نقل مکانی کے لیے نہیں کہا گیا اور اب وہ وہاں محصور ہو گئے ہیں: قبائلی رہنما

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ملک نثار علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شوال سے فوجی کارروائیوں کی اطلاعات تو موصول ہو رہی ہیں لیکن وہاں رابطہ نہیں ہے اور جو لوگ وہاں سے آئے ہیں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال جب فوجی آپریشن سے پہلے لوگوں نے نقل مکانی کی تھی تو شوال کے لوگوں کو نقل مکانی کا نہیں کہا گیا تھا اور اب حالیہ آپریشن کے دوران وہ لوگ وہاں محصور ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں شوال کے قریب واقع علاقے دتہ خیل سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ملک غلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس علاقے کے لوگ انتہائی غریب ہیں اور ان کے پاس ایسا کو راستہ نہیں ہے کہ وہ ادھر بنوں یا دیگر علاقوں کی طرف آ سکیں اس لیے اگر انھیں موقع ملے گا تو وہ افغانستان کی جانب نقل مکانی کر سکیں گے۔‘

ان قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کہ جن لوگوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ان کے بارے میں علم نہیں کہ وہ لوگ علاقے میں موجود ہیں یا فرار ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گزشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس سال مارچ میں ان متاثرین کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن مقامی رہنماؤں کے مطابق یہ واپسی انتہائی سست روی سے جاری ہے اور اگر یہی سلسلہ رہا تو یہ واپسی دس سالوں میں مکمل ہوگی۔

یاد رہے کہ شوال کا علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے جس کی سرحد افغانستان سے ملی ہوئی ہے۔

گذشتہ جمعرات کو آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ’شوال میں زمینی آپریشن شروع ہو گیا ہے، آرمی چیف نے جلد ازجلد فوجی اہداف حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔آرمی چیف نے آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی فورسز کو مربوط رابطے قائم رکھنے کو بھی کہا ہے۔‘

جون میں آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور اس عرصے میں سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔