وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں پر فضائی حملے

شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کافی عرصے سے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کافی عرصے سے جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں کم از کم 39 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انٹیلیجنس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فضائی حملے وادی شوال اور دتہ خیل میں کیے گئے۔

اہلکاروں کے مطابق شوال اور دتہ خیل کے گھنے جنگلات میں واقع نالے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمگلنگ کا راستہ ہیں اور یہاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

اہلکاروں کے مطابق ان ٹھکانوں کو شدت پسند پاکستان کے اندر حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

دونوں اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیر کو شمالی وزیرستان میں صبح دس بجے فضائی حملے زوئے نری، لٹکا، میزر مداخیل اور شوال کے علاقے میں کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ فضائی حملوں میں شدت پسند کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میں 24 شدت پسند مارے گئے جبکہ ایک اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

دوسرے اہلکار نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی لیکن اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا یہ حملے اتوار کو پنجاب کے وزیر داخلہ کی خودکش حملے کی ہلاکت کا ردعمل ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق خیبر ایجنسی میں افغان سرحد سے متصل علاقے راجگال میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں فوجی آپریشن شروع ہوا تھا
،تصویر کا کیپشنوزیرستان میں گذشتہ سال جون میں فوجی آپریشن شروع ہوا تھا

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان فضائی کارروائیوں میں کم از کم 15 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی میں دو خودکش حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع بھی ہے۔

پاکستان کی فوج نے گذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے اور اس دوران فوج نے ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے کچھ عرصے بعد خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان سے شدت پسند بھاگ کر خیبر ایجنسی آ رہے تھے۔

گذشتہ ماہ فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اس آپریشن کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیتا جس کی ایک وجہ ہے۔ اس میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہمارے اہداف ساتھ ساتھ حاصل ہو رہے ہیں۔ ہم اسے جتنا جلدی ممکن ہو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔‘

شوال کی کارروائی کے بارے میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں شدت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’شوال دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا تھا۔ انھیں کافی نقصان پہنچایا ہے اور تھوڑا بہت ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آگے چل کر مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘