شمالی وزیرستان: بم حملوں، جھڑپوں میں تین فوجیوں سمیت 15 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے بم حملوں اور جھڑپوں میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دتہ خیل میں تین فوجی اور 12 شدت سپند ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے تحصیل دتہ خیل میں رکزیہ گاؤں میں پیش آیا۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار علاقے میں گشت کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے قافلے کو دو ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا۔
اہلکاروں کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو بنوں منتقل کردیا گیا۔
دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
تحصیل دتہ خیل میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اس پہلے بھی اس علاقے میں سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے زد میں آ چکے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔ فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان علاقوں میں فوج نے حال ہی میں زمینی حملوں کا آغاز بھی کیا ہے جبکہ اس دوران اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں پر حکومت کی عمل داری بحال کرانے کےلیے فیصلہ کن کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔
آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے تقربناً دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر کرائے کے مکانات یا رشتہ داروں عزیزوں کے ہاں مقیم ہیں۔
حکومت نے ان متاثرین کے اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے تاہم زیادہ تر بےگھر خاندان واپسی کے عمل سے مطمئین نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ واپسی کا منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کے باعث وہ مایوس ہو رہے ہیں۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ ان کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے۔







