وزیرستان: دھماکے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے دور افتادہ افغان سرحد سے متصل علاقے سپین وام میں ایف سی اہلکاروں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق قافلے میں سب سے پیچھے آنے والی گاڑی بم دھماکے سے متاثر ہوئی اور اس میں دو اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد زخمیوں میں سے دو اہلکاروں کی موت واقع ہو گئی۔
شمالی وزیرستان میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں کو متعدد بار بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
گذشتہ ماہ بھی شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے سے تین دن پہلے ہی سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد عام طور پر علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔
برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے کے لیے شمالی اور جنوبی وزیرستان کا انتخاب کیا تھا۔
امریکہ کے ڈرون حملے بھی شمالی وزیرستان میں ہوتے ہیں اور اکتوبر میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







