جنوبی وزیرستان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں دو فوجی ہلاک

حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے
،تصویر کا کیپشنحملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ فوج پر ہونے والے ایک حملے میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ نے تین دن تک پوری ایجنسی میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں فوج کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے جنوبی وزیرستان کے گاؤں زترائی میں پیش آیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کو سڑک کے کنارے نصب بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق حملے میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طورپر اس سلسلے میں مزید کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ایک بار پھر سے تیزی آ رہی ہے۔ اس سے پہلے جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا میں بھی فورسز کے ایک قافلے کو مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں 2009 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد بیشتر علاقے کو محفوظ بنانے کے دعوے کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ اس آپریشن کے باعث ایک لاکھ کے قریب خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ متاثرین کی اکثریت بدستور ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان سے ملحق ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد علاقے میں تین دن تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات میرانشاہ بازار کے قریب واقع امین چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے بعد جوابی کارروائی میں بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا جس میں بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد مقامی انتطامیہ نے علاقے میں تین روز تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے گزشتہ دو دنوں سے شمالی وزیرستان سے ہر قسم کی گاڑیوں اور لوگوں کی آمد و رفت مکمل طورپر بند ہے۔

علاقے کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو کے نفاذ کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔