وزیرستان: بم دھماکے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر بم حملے میں ہلاک ہونے والے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔
اس حملے میں چودہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق فرنٹیئر کور کے ٹوچی سکاؤٹس کا قافلہ دتہ خیل روڑ پر جا رہا تھا کہ بویا کے مقام پر سڑک کے کنارے نصب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا جس میں نو اہلکار ہلاک ہو گئے۔
<link type="page"><caption> خودکش حملے میں سترہ سکیورٹی اہلکار ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130324_waziristan_attack_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’امن معاہدہ قائم رکھنا مشکل ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130422_north_waziristan_siutaiton_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شمالی وزیرستان: سینیئر صحافی ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130227_journalist_killed_waziristan_as.shtml" platform="highweb"/></link>
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے مقامی لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ بم حملے میں چودہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں لیکن حکام نے زخمیوں کی تصدیق نہیں کی۔اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
شمالی وزیرستان خودکش حملوں ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں، شدت پسندوں اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز پر اس قسم کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی وزیرستان ایجنسی کے مختلف مقامات پر اتوار کے روز کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے تاکہ سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ ہو۔
مقامی سطح پر کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصے سے ہر ڈرون حملے کے بعد مقامی سطح پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے ہیں۔
اس سے پہلے ڈرون حملوں کے بعد ایشا چیک پوسٹ بویا چیک پوسٹ اور ڈم ڈیل چیک پوسٹس پر حملے ہو چکے ہیں۔
سنیچر کو شمالی وزیرستان ایجنسی میں ایک ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







