’شدت پسندوں اور ان کے مددگارروں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے تمام شدت پسندوں، ان کے سہولت کاروں، شدت پسندی کی ترغیب دینے والوں اور ان کو مالی مدد فراہم کرنے والوں کو پکڑنے تک آپریشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ بات انھوں نے جمعے کو پاک افغان سرحد سے ملحقہ شمالی وزیرستان کے دورے کے موقعے پر کہی۔
پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ’آپریشن شدت پسندوں اور ان کے مددگاروں کے خاتمے تک ہر قیمت پر جاری رہے گا اور ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک پاکستان کو مکمل طور پر شدت پسندوں سے پاک نہیں کرا لیتے۔‘
آرمی چیف نے آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف بلامذہب، رنگ و نسل کارروائی جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کو خالی کرانے والے جوانوں سے بھی ملاقات کی، جہاں انھیں فوجی آپریشنوں اور شوال کو کلیئر کرنے پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقعے پر فارمیشن کمانڈروں نے شوال میں آئندہ کے منصوبے اور آپریشن ضرب عضب میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
راحیل شریف نے ملک میں خفیہ اطلاعات پر ہونے والے آپریشنوں پر خصوصی انٹیلی جنس ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس 15 جون کو شدت پسندوں کے خلاف ضربِ عضب کے نام سے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کامیاب رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے بڑے حملوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔







