’شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اداروں میں تعاون ضروری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملک کو غیر مستحکم کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں کی حرکات کے سدباب اور شدت پسندی کو روکنے کے لیے ملک کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مربوط اور فعال بنانے پر زور دیا ہے۔
یہ بات انھوں نے جمعے کو فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوراٹر کے دورے کے دوران کہی۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے قومی سطح پر سویلین اور فوجی خفیہ اداروں کے درمیان کاوشوں مذید مربوط بنانے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندی کی وارداتوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوت ہے۔
اس سے پہلے کراچی میں ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے ایک سیاسی جماعت کے دو کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے ہے۔
بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے شدت پسندی کے متعدد واقعات کو رونما ہونے سے روکنے پر آئی ایس آئی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ملکی دفاع میں اس ادارے کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل رضوان اختر نے آرمی چیف کو ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی صورت حال سے متعلق آگاہ کیا۔
جنرل راحیل شریف کو شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







