کالعدم تنظیموں کےخلاف بلا تفریق کارروائی کا فیصلہ

اپیکس کمیٹی نے کراچی آپریشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا

،تصویر کا ذریعہispr

،تصویر کا کیپشناپیکس کمیٹی نے کراچی آپریشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بس پر حملے کے تناظر میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں ’ایپکس کمیٹی‘ کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں سمیت جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کسی قسم کی لسانی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور سیاسی تفریق کے بغیر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کور ہیڈ کواٹر کراچی میں ہونے والے اس اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شرکت کی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس، ڈی جی آئی ایس پی آر اور آئی جی سندھ نے بھی شرکت کی۔

اس اجلاس میں کراچی میں جاری آپریشن کا جائزہ لیا گیا اور خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ادارے کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ شہر کی شاہراؤں پر نگرانی اور تلاشی کے کام کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

ایپکس کمیٹی نے دہشت گردوں اور ملزمان کے مالی ذرائع کی نشاندھی کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس کی ذیلی کمیٹیوں کی سطح پر فوج اور سول خفیہ اداروں میں معلومات کو بڑھایا جائے اور ان کے کام کو مربوط بنایا جائے۔

نماز جنازہ اور تدفین کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننماز جنازہ اور تدفین کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں

دریں اثناء کراچی میں بدھ کو اسماعیلیوں کے قتل پر ملک بھر میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ ہلاک شدگان کی نماز جنازہ سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی۔

ہلاک شدگان کی تدفین سخی حسن قبرستان میں کی گئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا آغا خان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پرامن جماعت پر حملہ عقل سے عاری تشدد کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بدھ کو کیے جانے والے حملہ کے محرکات سیاسی یا فرقہ وارانہ ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسماعیلی ایک پر امن عالمگیر برادری ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نسلی اور مذہبی گروہوں کے ساتھ پر امن انداز میں رہتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسماعیلی برادری کے قائدین اس حملے میں بچ جانے کی مدد میں مصروف ہیں۔ بیان کے مطابق اس حملے میں 16 خواتین اور 27 مرد ہلاک ہوئے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ملک بھر میں جمعرات کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔

ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ الاظہر گارڈن میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ سیاسی شخصیات نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

کراچی میں تاجر تنظیموں نے بدھ ہی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو کاروبار بند رکھیں گے
،تصویر کا کیپشنکراچی میں تاجر تنظیموں نے بدھ ہی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو کاروبار بند رکھیں گے

نماز جنازہ کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

الاظہر گارڈن سے آدھا کلومیٹر دور گاڑیوں کو روک دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق 43 افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ ایک کی نماز جنازہ بدھ ہی کو ادا کردی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث دس دس لاشیں تدفین کے لیے سخی حسن قبرستان روانہ کی جا رہی ہیں۔

کراچی میں تاجر تنظیموں نے بدھ ہی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو کاروبار بند رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کی رات کراچی میں گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔

انھوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ بس پر حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اس اجلاس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، گورنر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر کراچی کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی غلام حیدر جمالی نے بس حملے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات سے آگاہ کیا۔ پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بربریت کے واقعات انسداد دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔