’دہشت گردوں اور مجرموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پراتفاق‘

وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے اتفاق کیا کہ آپریشن ضرب عضب کو ہر قیمت پر اُس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے اتفاق کیا کہ آپریشن ضرب عضب کو ہر قیمت پر اُس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کو ملک بھر میں بلارکاوٹ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ منگل کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا جس میں ملکی سلامتی کی داخلی اور خارجی صورتحال پر بھی غور ہوا۔

بیان کے مطابق اس ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہےگا تاکہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے پیدا ہونے والے ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ملاقات میں وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ آپریشن ضرب عضب کو ہر قیمت پر اُس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں اور مجرموں کو ڈھونڈ نکالا جائے گا۔

اس موقعے پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

نواز شریف ضربِ عضب کے ایک سال کی تکمیل کے موقعے پر حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ یہ دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے اور ان کارروائیوں کے دوران جان کی قربانی دینے والوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس 15 جون کو شدت پسندوں کے خلاف ضربِ عضب کے نام سے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

فوجی آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے خالی کروایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے خالی کروایا گیا ہے

ایک سال کی تکمیل پر پاکستانی فوج نے اسآپریشن کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق ایک برس کے دوران کارروائیوں میں 2763 شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ساڑھے تین سو کے قریب فوجی افسر اور جوان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حال ہی میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ یہ آپریشن کامیاب رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے بڑے حملوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔