دہشت گردوں کے خلاف منطقی انجام تک کارروائی کا اعادہ

جنرل راحیل شریف کو آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ٹو میں تازہ کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف کو آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ٹو میں تازہ کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ملک کے تمام شہری اور دیہی علاقوں سے شر پسندوں کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ہونے والے پیغامات میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پشاور کا مختصر دورہ کیا۔ آرمی چیف کو کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی طورپر بریفنگ دی گئی۔

جنرل راحیل شریف کو شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ٹو میں تازہ کارروائیوں کے حوالے سے بھی تفصیلی طورپر آگاہ کیا گیا۔

جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو منتقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد اپنے ٹھکانوں تک محدود ہورہے ہیں جہاں اُن کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان گزشتہ دو دنوں سے جاری جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں۔

سنیچر کی شام فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا تھا کہ خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن ’خیبر ٹو‘ کے دوران اب تک 80 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران فوج کے سات اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں

اس سے پہلے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے دو دن پہلے ذرائع ابلاغ کو جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ خیبر ایجنسی میں سنگر نامی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس میں بارہ سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2014 میں فوج کی طرف سے خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جو دو مرحلوں خیبر ون اور خیبر ٹو پر مشتمل ہے۔

پاکستانی فوج نے رواں ماہ کی 13 اور 18 تاریخ کو خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائیوں میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم دہشت گردوں کی شناخت یا ان کے تنظیمی تعلق کے بارے میں فوج کے بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ سال اکتوبر میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

اس فوجی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگ بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

تاہم حکومت نے حال ہی میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے بے گھر ہونے والے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں ہزاروں خاندان اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں تاہم اب بھی لاکھوں متاثرین پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں رہائیش پزیر ہیں۔