خیبر ایجنسی میں بمباری سے ’34 شدت پسند ہلاک‘

اکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشناکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تھا

پاکستان کی فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے دوران 34 دہشت گردوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری کیے بیان کے مطابق یہ کارروائی وادیِ تیراہ میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ’مخصوص اہداف‘ پر کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کی بمباری سے 34 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

دہشت گردوں کی شناخت یا ان کے تنظیمی تعلق کے بارے میں فوج کے بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

یہ رواں ماہ خیبر ایجنسی میں پاکستانی فوج کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔

اس سے قبل 13 مارچ کو خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے دوران 48 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ سال اکتوبر میں خیبر ون کے نام سے باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب سمیت آپریشن ’خیبر ون ‘ کے بارے میں کہا تھا کہ ان علاقوں میں اُس وقت تک فوج کی کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک وہاں سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

اس فوجی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگ بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔