خیبر ایجنسی میں فضائی بمباری سے48 شدت پسند ہلاک

وادیِ تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں خاصے عرصے سے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنوادیِ تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں خاصے عرصے سے جاری ہیں

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں فضائی کارروائی کے دوران 48 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ’ٹھیک نشانے‘ سے فضائی بمباری کی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ جمعے کی صبح ہونے والی اس بمباری میں 48 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں ہی گذشتہ سال اکتوبر میں خیبر ون کے نام سے باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب سمیت آپریشن ’خیبر ون ‘ کے بارے میں کہا تھا کہ ان علاقوں میں اُس وقت تک فوج کی کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک وہاں سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران شدت پسند بھاگ کر خیبر ایجنسی منتقل ہو گئے تھے اور اسی وجہ سے خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کیا ہے۔

اس فوجی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگ بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔