پاکستانی فوج کا پہلا ڈرون حملہ: ’تین دہشت گرد ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے پہلے ڈرون طیارے کے ذریعے تین اہم دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے پیر کی صبح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے مختصر پیغام میں بتایا کہ پاکستان کے پہلے ڈرون طیارے ’براق‘ نے وادی شوال میں دہشت گردوں کے ایک احاطے کو نشانہ بنایا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں تین اہم دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ابھی اس حملے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ ماہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران وادیِ شوال میں زمینی کارروائی کا اعلان بھی کیا تھا۔
قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا آغاز سنہ 2004 میں ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
ایک اندازے کے مطابق اب تک ان حملوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے۔
نامہ نگار رفعت اورکزئی کے مطابق ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں تاہم بیشتر واقعات میں اہم پاکستانی اور غیر ملکی شدت پسند کمانڈ بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
رواں ماہ کی پہلی تاریخ کو بھی شمالی وزیرستان میں بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے سے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ شدت پسند مارے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ تاہم چند سال پہلے امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی تھیں جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکہ کو ڈرون طیاروں کے ذریعے سے اہم دہشت گردوں کو مارنےکی اجازت ہوگی جبکہ پاکستانی حکومت دبے الفاظ میں اس کی مذمت کرتی رہے گی۔
لیکن پاکستان ایسی کسی معاہدے کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےامریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے، جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔







