شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی، 22 شدت پسند ہلاک

پاکستانی فوج کی گذشتہ برس سے شمالی وزیرستان میں کارروائیاں جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کی گذشتہ برس سے شمالی وزیرستان میں کارروائیاں جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج نے فضائی کارروائیوں میں 22 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر بیان کے مطابق سنیچر کو شمالی وزیرِستان کے علاقے شوال میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔

بیان کے مطابق فضائی حملوں میں 22 شدت پسند مارے گئے۔

شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس جون میں فوج کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے90 فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے تاہم پاک افغان سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان علاقوں میں فوج کی جانب سے اگست میں زمینی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ایجنسیوں پر مشتمل شوال کا علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے جس کی سرحدی افغان سرحد سے ملی ہوئی ہے۔

ستمبر میں پاکستانی فوج نے شوال میں مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے پہلے ڈرون طیارے کے ذریعے تین اہم دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔