شمالی وزیرستان فضائی حملے، 22 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پاکستانی فوج نےگذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج نےگذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا

پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والی فضائی کارروائیوں میں 22 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک مختصر میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران سکیورٹی فورس نے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحدی سے متصل علاقے دتہ خیل میں فضائی حملے کیے ہیں۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں 22 شدت پسند مارے گئے جبکہ شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ حملے دہشت گردوں کے خلاف ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب کے تحت کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔ فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔

تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان علاقوں میں فوج نے حال ہی میں زمینی حملوں کا آغاز بھی کیا ہے جبکہ اس دوران اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا گیا تھا جس کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔