شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ، پانچ افراد ہلاک

پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں تین غیر ملکیوں سمیت کم سے کم پانچ مبینہ شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ حملہ سنیچر کی شام پاک افغان سرحدی علاقے تحصیل شوال میں اس وقت کیا گیا جب بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے سے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں دو میزائل داغے گئے جس میں کم سے کم پانچ شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں تین غیر ملکی بتائے جاتے ہیں جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو مقامی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون کے ماہ میں پاکستان فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی کے 90 فیصد علاقے کو عسکری تنظیموں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم دور افتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شوال اور دتہ خیل کے علاقوں کو شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف کرنے کےلیے حتمی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے تاہم وقفوں وقفوں سے ڈورن حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں جس میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بیشتر شدت پسند بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔